Hadith no 1498 Of Sunan Nisai Chapter Sooraj Aur Chand Girhan Ke Ehkaam O Masail (Commands and Problems About Solar and Lunar Eclipse)
Read Sunan Nisai Hadith No 1498 - Hadith No 1498 is from Commands And Problems About Solar And Lunar Eclipse , Sooraj Aur Chand Girhan Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sunan Nisai Hadees Book, which is written by Imam Nasai. Hadith # 1498 of Imam Nasai covers the topic of Commands And Problems About Solar And Lunar Eclipse briefly in Sunan Nisai. You can read Hadith No 1498 from Commands And Problems About Solar And Lunar Eclipse in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
سنن نسائی - حدیث نمبر 1498
| Hadith No | 1498 |
|---|---|
| Book Name | Sunan Nisai |
| Book Writer | Imam Nasai |
| Writer Death | 303 ھ |
| Chapter Name | Commands And Problems About Solar And Lunar Eclipse |
| Roman Name | Sooraj Aur Chand Girhan Ke Ehkaam O Masail |
| Arabic Name | الكسوف |
| Urdu Name | چاند اور سورج گرہن کے احکام و مسائل |
Urdu Translation
´عبدالرحمٰن بن نمر سے روایت ہے کہ` انہوں نے زہری سے گرہن کی نماز کے طریقے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی ہے وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا، تو اس نے اعلان کیا کہ نماز جماعت سے ہونے والی ہے، تو لوگ جمع ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی، آپ نے اللہ اکبر کہا، پھر ایک لمبی قرآت کی، پھر اللہ اکبر کہا، پھر ایک لمبا رکوع کیا، اپنے قیام کی طرح یا اس سے بھی لمبا، پھر اپنا سر اٹھایا، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہا، پھر ایک لمبی قرآت کی یہ پہلی قرآت سے کم تھی، پھر «اللہ اکبر» کہا، اور ایک لمبا رکوع کیا یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر اپنا سر اٹھایا، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہا، پھر آپ نے «اللہ اکبر» کہا، اور ایک لمبا سجدہ کیا اپنے رکوع کی طرح یا اس سے بھی لمبا، پھر آپ نے «اللہ اکبر» کہا، اور اپنا سر اٹھایا، پھر آپ نے «اللہ اکبر» کہا اور سجدہ کیا، پھر آپ نے «اللہ اکبر» کہا اور ایک لمبی قرآت کی، یہ پہلی قرآت سے کم تھی، پھر «اللہ اکبر» کہا، پھر ایک لمبا رکوع کیا یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر اپنا سر اٹھایا، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہا، پھر ایک لمبی قرآت کی لیکن یہ پہلی قرآت سے جو دوسری رکعت میں کی تھی کم تھی، پھر آپ نے «اللہ اکبر» کہا، اور ایک لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر «اللہ اکبر» کہا اور اپنا سر اٹھایا، پھر «سمع اللہ لمن حمده» کہا، پھر «اللہ اکبر» کہا، اور سجدہ کیا، اور یہ پہلے سجدہ سے کم تھا، پھر آپ نے تشہد پڑھا، پھر سلام پھیرا، پھر ان کے بیچ میں کھڑے ہوئے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”سورج اور چاند نہ تو کسی کے مرنے سے گہناتے ہیں اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے سے، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، تو ان میں سے کسی کو گہن لگ جائے تو نماز کو یاد کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑ پڑو“۔
Hadith in Arabic
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَمِرٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ الزُّهْرِيَّ عَنْ سُنَّةِ صَلَاةِ الْكُسُوفِ , فَقَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَنَادَى أَنِ الصَّلَاةَ جَامِعَةً , فَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا مِثْلَ قِيَامِهِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , وَقَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، ثُمَّ قَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ سُجُودًا طَوِيلًا مِثْلَ رُكُوعِهِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ ، ثُمَّ كَبَّرَ فَقَامَ فَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْأُولَى ، ثُمَّ كَبَّرَ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، ثُمَّ قَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً وَهِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى فِي الْقِيَامِ الثَّانِي ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ أَدْنَى مِنْ سُجُودِهِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ تَشَهَّدَ ثُمَّ سَلَّمَ ، فَقَامَ فِيهِمْ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، فَأَيُّهُمَا خُسِفَ بِهِ أَوْ بِأَحَدِهِمَا فَافْزَعُوا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِذِكْرِ الصَّلَاةِ " .
- Previous Hadith
- Hadith No. 1498 of 5760
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
چاند اور سورج گرہن کے احکام و مسائل سے مزید احادیث
حدیث نمبر 1485
´ثعلبہ بن عباد العبدی بیان کرتے ہیں کہ` وہ ایک دن سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے اپنے خطبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ایک حدیث ذکر کی، سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1470
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس دن سورج گرہن لگا، دو رکعت نماز پڑھی، تو چار رکوع اور چار سجدے کیے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1490
´نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت سورج گرہن لگا ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی آپ رکوع کر رہے تھے اور سجدہ کر رہے تھے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1478
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف کی نماز میں زمزم کے چبوترے پر چار چار رکوع اور چار چار سجدے کئے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1463
´ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج گرہن اور چاند گرہن کسی کے مرنے سے نہیں لگتا، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھو“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1477
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ایک یہودی عورت مجھ سے کچھ پوچھنے آئی تو اس نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے بچائے، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا لوگ قبروں میں بھی عذاب دیئے جاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1473
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن لگا تو آپ (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے، اور تکبیر کہی، اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صفیں باندھیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی لمبی قرآت کی، ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1469
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرہن لگنے پر نماز پڑھی، آپ نے قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر سجدہ کیا، اور دوسری رکعت بھی ایسے ہی پڑھی۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1466
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کو حکم دیا، تو اس نے ندا دی کہ نماز کے لیے جمع ہو جاؤ، تو سب جمع ہو گئے، اور انہوں نے صف بندی کی تو آپ نے انہیں چار ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1487
´قبیصہ بن مخارق الہلالی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` سورج گرہن لگا، ہم لوگ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں تھے، آپ گھبرائے ہوئے اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے باہر نکلے، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور اتنا لمبا کیا کہ آپ جب نماز سے فارغ ہوئے تو سورج چھٹ چکا تھا، ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1499
´اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہم کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گرہن کی نماز پڑھی، تو آپ نے قیام کیا تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر (اپنا سر رکوع سے) اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر رکوع سے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1488
´قبیصہ الہلالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` سورج گرہن لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو رکعتیں پڑھیں یہاں تک کہ وہ صاف ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا: ”سورج اور چاند کو کسی کے مرنے سے گرہن نہیں لگتا، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے دو مخلوق ہیں، ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1462
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند گرہن کسی کے مرنے اور کسی کے پیدا ہونے سے نہیں لگتا ہے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، تو جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھو“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1486
´نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ گھبرائے ہوئے اپنے کپڑے کو گھسیٹتے ہوئے باہر نکلے یہاں تک کہ آپ مسجد آئے، اور ہمیں برابر نماز پڑھاتے رہے یہاں تک کہ سورج صاف ہو گیا، جب سورج صاف ہو گیا تو آپ نے فرمایا: مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1483
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، اور وہ لوگ بھی کھڑے ہوئے جو آپ کے ساتھ تھے، آپ لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا، ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1501
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا، تو آپ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی تو بہت لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو بہت لمبا رکوع کیا، پھر (رکوع سے سر) اٹھایا، پھر قیام کیا تو بہت لمبا قیام کیا، اور ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1504
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر کھڑے ہوئے، آپ ڈر رہے تھے کہ کہیں قیامت تو نہیں آ گئی ہے، چنانچہ آپ اٹھے یہاں تک کہ مسجد آئے، پھر نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو آپ نے اتنے لمبے لمبے قیام، رکوع اور سجدے کیے کہ اتنے لمبے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1502
´سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت سورج گرہن لگا خطبہ دیا تو آپ نے (حمد و ثنا کے بعد) «أما بعد» کہا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1500
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جانے کے لیے نکلے کہ سورج کو گرہن لگ گیا، تو ہم حجرے کی طرف چلے، اور کچھ اور عورتیں بھی ہمارے پاس جمع ہو گئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اور یہ چاشت کا وقت ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1492
´ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ سورج گرہن لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے یہاں تک کہ آپ مسجد پہنچے، اور لوگ (بھی) آپ کی طرف لپکے، پھر آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، ..مکمل حدیث پڑھیئے