غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں

غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں

بوسہ کو پوچھتا ہوں میں منہ سے مجھے بتا کہ یوں

پرسش طرز دلبری کیجیے کیا کہ بن کہے

اس کے ہر ایک اشارہ سے نکلے ہے یہ ادا کہ یوں

رات کے وقت مے پیے ساتھ رقیب کو لیے

آئے وہ یاں خدا کرے پر نہ کرے خدا کہ یوں

غیر سے رات کیا بنی یہ جو کہا تو دیکھیے

سامنے آن بیٹھنا اور یہ دیکھنا کہ یوں

بزم میں اس کے روبرو کیوں نہ خموش بیٹھیے

اس کی تو خامشی میں بھی ہے یہی مدعا کہ یوں

میں نے کہا کہ بزم ناز چاہیے غیر سے تہی

سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں

مجھ سے کہا جو یار نے جاتے ہیں ہوش کس طرح

دیکھ کے میری بے خودی چلنے لگی ہوا کہ یوں

کب مجھے کوئے یار میں رہنے کی وضع یاد تھی

آئنہ دار بن گئی حیرت نقش پا کہ یوں

گر ترے دل میں ہو خیال وصل میں شوق کا زوال

موج محیط آب میں مارے ہے دست و پا کہ یوں

جو یہ کہے کہ ریختہ کیونکے ہو رشک فارسی

گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ یوں

(448) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Ghuncha-e-na-shagufta Ko Dur Se Mat Dikha Ki Yun In Urdu By Famous Poet Mirza Ghalib. Ghuncha-e-na-shagufta Ko Dur Se Mat Dikha Ki Yun is written by Mirza Ghalib. Enjoy reading Ghuncha-e-na-shagufta Ko Dur Se Mat Dikha Ki Yun Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Mirza Ghalib. Free Dowlonad Ghuncha-e-na-shagufta Ko Dur Se Mat Dikha Ki Yun by Mirza Ghalib in PDF.