سنسار کی ہر شے کا اتنا ہی فسانہ ہے

سنسار کی ہر شے کا اتنا ہی فسانہ ہے

اک دھند سے آنا ہے اک دھند میں جانا ہے

یہ راہ کہاں سے ہے یہ راہ کہاں تک ہے

یہ راز کوئی راہی سمجھا ہے نہ جانا ہے

اک پل کی پلک پر ہے ٹھہری ہوئی یہ دنیا

اک پل کے جھپکنے تک ہر کھیل سہانا ہے

کیا جانے کوئی کس پر کس موڑ پر کیا بیتے

اس راہ میں اے راہی ہر موڑ بہانا ہے

ہم لوگ کھلونا ہیں اک ایسے کھلاڑی کا

جس کو ابھی صدیوں تک یہ کھیل رچانا ہے

(966) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

In Urdu By Famous Poet Sahir Ludhianvi. is written by Sahir Ludhianvi. Enjoy reading  Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Sahir Ludhianvi. Free Dowlonad  by Sahir Ludhianvi in PDF.