Hadith no 4588 Of Sahih Muslim Chapter Jihad Aur Us Ke Doraan Rasool SAW Ke Ikhtiar Kerda Tareeqe (Methods adopted by Prophet SAW about and during Jihad)

Read Sahih Muslim Hadith No 4588 - Hadith No 4588 is from Methods Adopted By Prophet SAW About And During Jihad , Jihad Aur Us Ke Doraan Rasool SAW Ke Ikhtiar Kerda Tareeqe Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 4588 of Imam Muslim covers the topic of Methods Adopted By Prophet SAW About And During Jihad briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 4588 from Methods Adopted By Prophet SAW About And During Jihad in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 4588

Hadith No 4588
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 Ú¾
Chapter Name Methods Adopted By Prophet SAW About And During Jihad
Roman Name Jihad Aur Us Ke Doraan Rasool SAW Ke Ikhtiar Kerda Tareeqe
Arabic Name الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ
Urdu Name جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے

Urdu Translation

‏‏‏‏ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جس دن بدر کی لڑائی ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں کو دیکھا وہ ایک ہزار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تین سو انیس تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں کو دیکھا اور قبلہ کی طرف منہ کیا، پھر دونوں ہاتھ پھیلائے، اور پکار کر دعا کرنے لگے اپنے پروردگار سے۔ (اس حدیث سے یہ نکلا کہ دعا میں قبلہ کی طرف منہ کرنا اور ہاتھ پھیلانا مستحب ہے) «‏‏‏‏اللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِى مَا وَعَدْتَنِى اللَّهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِى اللَّهُمَّ إِنْ تَهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةُ مِنْ أَهْلِ الإِسْلاَمِ لاَ تُعْبَدْ فِى الأَرْضِ» ‏‏‏‏ ”یااللہ! پورا کر جو تو نے وعدہ کیا مجھ سے، یااللہ! دے مجھ کو جو وعدہ کیا تو نے مجھ سے، یااللہ! اگر تو تباہ کر دے گا اس جماعت کو تو پھر نہ پوجا جائے گا تو زمین میں۔“ (بلکہ جھاڑ پہاڑ پوجے جائیں گے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر دعا کرتے رہے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے یہاں تک کہ آپ کی چادر مبارک مونڈھوں سے اتر گئی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر مونڈھے پر ڈال دی، پھر پیچھے سے ہٹ گئے اور فرمایا اے نبی اللہ تعالیٰ کے بس، آپ کی اتنی دعا کافی ہے اب اللہ تعالیٰ پورا کرے گا وہ وعدہ جو کیا آپ سے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّى مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ مُرْدِفِينَ» (۸-الأنفال:۹) ”یعنی جب تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے اور اس نے قبول کی دعا تمہاری اور فرمایا میں تمہاری مدد کروں گا ایک ہزار فرشتے لگاتار سے،“ پھر اللہ تعالیٰ نے مدد کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرشتوں سے۔ ابوزمیل نے کہا: مجھ سے حدیث بیان کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ اس روز ایک مسلمان ایک کافر کے پیچھے دوڑ رہا تھا جو اس کے آگے تھا اتنے میں کوڑے کی آواز اس کے کان میں آئی اوپر سے اور ایک سوار کی آواز سنائی دی اوپر سے۔ وہ کہتا تھا بڑھ اے حیزدم (حیزدم اس فرشتے کے گھوڑے کا نام تھا) پھر جو دیکھا تو وہ کافر چت گر پڑا اس مسلمان کے سامنے، مسلمان نے جب اس کو دیکھا کہ اس کی ناک پر نشان تھا اور اس کا منہ پھٹ گیا تھا جیسے کوئی کوڑا مارتا ہے اور سب سبز ہو گیا تھا۔ (کوڑے کی زہر سے)، پھر مسلمان انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور قصہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو سچ کہتا ہے یہ مدد تیسرے آسمان سے آئی تھی۔“ آخر مسلمانوں نے اسی دن ستر کافروں کو مارا اور ستر کو قید کیا۔ ابوزمیل نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جب قیدی گرفتار ہو کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر صدیق اور عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ”تمہاری کیا رائے ہے ان قیدیوں کے بارے میں۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول یہ ہماری برادری کے لوگ ہیں اور کنبے والے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ ان سے کچھ مال لے کر ان کو چھوڑ دیجئیے جس سے مسلمانوں کو طاقت ہو کافروں سے مقابلہ کرنے کی اور شاید ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت کرے اسلام کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری کیا رائے ہے اے خطاب کے بیٹے!“ انہوں نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی، یا رسول اللہ! میری وہ رائے نہیں جو ابوبکر صدیق کی رائے ہے، میری رائے یہ ہے کہ آپ ان کو میرے حوالے کیجئیے ہم ان کی گردنیں ماریں تو عقیل کو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے حوالے کیجئیے وہ ان کی گردن ماریں اور مجھے میرا فلاں عزیز دیجئیے میں اس کی گردن ماروں کیونکہ یہ لوگ کفر کے مہری ہیں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے پسند آئی۔ اور میری رائے پسند نہیں آئی، جب دوسرا دن ہوا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں بیٹھے رو رہے تھے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ اور آپ کے ساتھی کیوں روتے ہیں اگر مجھے بھی رونا آئے تو میں بھی روؤں گا ورنہ رونے کی صورت بناؤں گا۔ آپ دونوں کے رونے سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں روتا ہوں اس واقعہ سے جو پیش آیا تمہارے ساتھیوں کو فدیہ لینے سے میرے سامنے ان کا عذاب لایا گیا اس درخت سے بھی زیادہ نزدیک (ایک درخت تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «مَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِى الأَرْضِ» سے «‏‏‏‏فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلاَلاً طَيِّبًا» (۸-الأنفال:۶۷-۶۹) اخیر تک ”یعنی نبی کو یہ درست نہیں کہ وہ قیدی رکھے جب تک زور نہ توڑدے کافروں کا زمین میں۔“

Hadith in Arabic

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ح ، وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ هُوَ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ أَلْفٌ وَأَصْحَابُهُ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَتِسْعَةَ عَشَرَ رَجُلًا ، فَاسْتَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ ، فَجَعَلَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ اللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي ، اللَّهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِي ، اللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ ، فَمَا زَالَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ مَادًّا يَدَيْهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ حَتَّى سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ مَنْكِبَيْهِ ، فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَأَلْقَاهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ ، وَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، كَفَاكَ مُنَاشَدَتُكَ رَبَّكَ ، فَإِنَّهُ سَيُنْجِزُ لَكَ مَا وَعَدَكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُرْدِفِينَ سورة الأنفال آية 9 فَأَمَدَّهُ اللَّهُ بِالْمَلَائِكَةِ ، قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ : فَحَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ يَشْتَدُّ فِي أَثَرِ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَمَامَهُ إِذْ سَمِعَ ضَرْبَةً بِالسَّوْطِ ، فَوْقَهُ وَصَوْتَ الْفَارِسِ ، يَقُولُ : أَقْدِمْ حَيْزُومُ ، فَنَظَرَ إِلَى الْمُشْرِكِ أَمَامَهُ ، فَخَرَّ مُسْتَلْقِيًا ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ ، فَإِذَا هُوَ قَدْ خُطِمَ أَنْفُهُ وَشُقَّ وَجْهُهُ كَضَرْبَةِ السَّوْطِ ، فَاخْضَرَّ ذَلِكَ أَجْمَعُ ، فَجَاءَ الْأَنْصَارِيُّ فَحَدَّثَ بِذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : صَدَقْتَ ، ذَلِكَ مِنْ مَدَدِ السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ ، فَقَتَلُوا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ وَأَسَرُوا سَبْعِينَ ، قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَلَمَّا أَسَرُوا الْأُسَارَى ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ : مَا تَرَوْنَ فِي هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى ؟ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ هُمْ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِيرَةِ أَرَى أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُمْ ، فِدْيَةً فَتَكُونُ لَنَا قُوَّةً عَلَى الْكُفَّارِ فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُمْ لِلْإِسْلَامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ ، قُلْتُ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَرَى الَّذِي رَأَى أَبُو بَكْرٍ ، وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ تُمَكِّنَّا فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ فَتُمَكِّنَ عَلِيًّا مِنْ عَقِيلٍ ، فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ وَتُمَكِّنِّي مِنْ فُلَانٍ نَسِيبًا لِعُمَرَ فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ ، فَإِنَّ هَؤُلَاءِ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ وَصَنَادِيدُهَا ، فَهَوِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ جِئْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ قَاعِدَيْنِ يَبْكِيَانِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَبْكِي أَنْتَ وَصَاحِبُكَ ؟ فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ ، وَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُكَاءً تَبَاكَيْتُ لِبُكَائِكُمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبْكِي لِلَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُكَ مِنْ أَخْذِهِمُ الْفِدَاءَ لَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ عَذَابُهُمْ أَدْنَى مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، شَجَرَةٍ قَرِيبَةٍ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الأَرْضِ سورة الأنفال آية 67 إِلَى قَوْلِهِ فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلالا طَيِّبًا سورة الأنفال آية 69 فَأَحَلَّ اللَّهُ الْغَنِيمَةَ لَهُمْ " .

Your Comments/Thoughts ?

جہاد اور اس Ú©Û’ دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم Ú©Û’ اختیار کردہ طریقے سے مزید احادیث

حدیث نمبر 4562

‏‏‏‏ نافع سے ان سندوں Ú©Û’ ساتھ انہی مذکورہ حدیثوں Ú©ÛŒ طرح یہ حدیث روایت Ú©ÛŒ گئی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4576

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4543

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم Ù†Û’ بددعا Ú©ÛŒ احزاب پر (جس دن کافروں Ú©ÛŒ کئی جماعتیں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4634

‏‏‏‏ شقیق سے روایت ہے، میں Ù†Û’ سہل بن حنیف سے سنا، وہ کہتے تھے صفین میں اے لوگو! اپنی عقلوں کا قصور سمجھو، قسم اللہ Ú©ÛŒ تم دیکھتے مجھ Ú©Ùˆ ابوجندل Ú©Û’ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4690

‏‏‏‏ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں Ù†Û’ کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم Ú©Û’ ساتھ لڑائیوں میں رہی، میں مردوں Ú©Û’ ٹھہرنے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4674

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”یا اللہ! عیش آخرت ہی کا عیش ہے تو کرم ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4679

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اسّی (Û¸Û°) آدمی مکہ والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم Ú©Û’ اوپر اترے تنعیم Ú©Û’ پہاڑ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4590

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ سوائے اس Ú©Û’ کہ اس Ù†Û’ کہا: ”اگر تم مجھے قتل کرو Ú¯Û’ تو ایک طاقتور آدمی Ú©Ùˆ قتل کرو گے۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4631

‏‏‏‏ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روکے گئے کعبہ شریف میں جانے سے تو صلح Ú©ÛŒ آپ صلی اللہ علیہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4618

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4669

‏‏‏‏ سیدنا ابن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب خیبر Ú©ÛŒ لڑائی ہوئی تو میرا بھائی (عامر بن اکوع) خوب لڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4661

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں Ù†Û’ عرض کیا۔ کاش! آپ عبداللہ بن ابی Ú©Û’ پاس تشریف Ù„Û’ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4587

‏‏‏‏ عبیداللہ سے اس سند Ú©Û’ ساتھ مذکورہ حدیث Ú©ÛŒ طرح روایت نقل Ú©ÛŒ گئی ہے اور اس میں غنیمت کا ذکر نہیں۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4672

‏‏‏‏ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہم خندق کھود رہے تھے اور مٹی اپنے کاندھوں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4535

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم Ù†Û’ فرمایا: ”ہر دغا باز کا ایک جھنڈا ہو گا قیامت ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4559

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4668

‏‏‏‏ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم Ú©Û’ ساتھ Ù†Ú©Ù„Û’ خیبر Ú©ÛŒ طرف تو رات Ú©Ùˆ Ú†Ù„Û’Û” ایک شخص ہم میں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4594

‏‏‏‏ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم Ù†Û’ فرمایا: ”البتہ نکال دوں گا یہود اور نصاریٰ Ú©Ùˆ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4583

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم Ù†Û’ فرمایا: ”میرے وارث ایک دینار بھی بانٹ نہیں سکتے۔ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4530

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے