Hadith no 4588 Of Sahih Muslim Chapter Jihad Aur Us Ke Doraan Rasool SAW Ke Ikhtiar Kerda Tareeqe (Methods adopted by Prophet SAW about and during Jihad)

Read Sahih Muslim Hadith No 4588 - Hadith No 4588 is from Methods Adopted By Prophet SAW About And During Jihad , Jihad Aur Us Ke Doraan Rasool SAW Ke Ikhtiar Kerda Tareeqe Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 4588 of Imam Muslim covers the topic of Methods Adopted By Prophet SAW About And During Jihad briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 4588 from Methods Adopted By Prophet SAW About And During Jihad in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 4588

Hadith No 4588
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 ھ
Chapter Name Methods Adopted By Prophet SAW About And During Jihad
Roman Name Jihad Aur Us Ke Doraan Rasool SAW Ke Ikhtiar Kerda Tareeqe
Arabic Name الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ
Urdu Name جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے

Urdu Translation

‏‏‏‏ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جس دن بدر کی لڑائی ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں کو دیکھا وہ ایک ہزار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تین سو انیس تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں کو دیکھا اور قبلہ کی طرف منہ کیا، پھر دونوں ہاتھ پھیلائے، اور پکار کر دعا کرنے لگے اپنے پروردگار سے۔ (اس حدیث سے یہ نکلا کہ دعا میں قبلہ کی طرف منہ کرنا اور ہاتھ پھیلانا مستحب ہے) «‏‏‏‏اللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِى مَا وَعَدْتَنِى اللَّهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِى اللَّهُمَّ إِنْ تَهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةُ مِنْ أَهْلِ الإِسْلاَمِ لاَ تُعْبَدْ فِى الأَرْضِ» ‏‏‏‏ ”یااللہ! پورا کر جو تو نے وعدہ کیا مجھ سے، یااللہ! دے مجھ کو جو وعدہ کیا تو نے مجھ سے، یااللہ! اگر تو تباہ کر دے گا اس جماعت کو تو پھر نہ پوجا جائے گا تو زمین میں۔“ (بلکہ جھاڑ پہاڑ پوجے جائیں گے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر دعا کرتے رہے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے یہاں تک کہ آپ کی چادر مبارک مونڈھوں سے اتر گئی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر مونڈھے پر ڈال دی، پھر پیچھے سے ہٹ گئے اور فرمایا اے نبی اللہ تعالیٰ کے بس، آپ کی اتنی دعا کافی ہے اب اللہ تعالیٰ پورا کرے گا وہ وعدہ جو کیا آپ سے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّى مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ مُرْدِفِينَ» (۸-الأنفال:۹) ”یعنی جب تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے اور اس نے قبول کی دعا تمہاری اور فرمایا میں تمہاری مدد کروں گا ایک ہزار فرشتے لگاتار سے،“ پھر اللہ تعالیٰ نے مدد کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرشتوں سے۔ ابوزمیل نے کہا: مجھ سے حدیث بیان کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ اس روز ایک مسلمان ایک کافر کے پیچھے دوڑ رہا تھا جو اس کے آگے تھا اتنے میں کوڑے کی آواز اس کے کان میں آئی اوپر سے اور ایک سوار کی آواز سنائی دی اوپر سے۔ وہ کہتا تھا بڑھ اے حیزدم (حیزدم اس فرشتے کے گھوڑے کا نام تھا) پھر جو دیکھا تو وہ کافر چت گر پڑا اس مسلمان کے سامنے، مسلمان نے جب اس کو دیکھا کہ اس کی ناک پر نشان تھا اور اس کا منہ پھٹ گیا تھا جیسے کوئی کوڑا مارتا ہے اور سب سبز ہو گیا تھا۔ (کوڑے کی زہر سے)، پھر مسلمان انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور قصہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو سچ کہتا ہے یہ مدد تیسرے آسمان سے آئی تھی۔“ آخر مسلمانوں نے اسی دن ستر کافروں کو مارا اور ستر کو قید کیا۔ ابوزمیل نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جب قیدی گرفتار ہو کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر صدیق اور عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ”تمہاری کیا رائے ہے ان قیدیوں کے بارے میں۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول یہ ہماری برادری کے لوگ ہیں اور کنبے والے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ ان سے کچھ مال لے کر ان کو چھوڑ دیجئیے جس سے مسلمانوں کو طاقت ہو کافروں سے مقابلہ کرنے کی اور شاید ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت کرے اسلام کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری کیا رائے ہے اے خطاب کے بیٹے!“ انہوں نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی، یا رسول اللہ! میری وہ رائے نہیں جو ابوبکر صدیق کی رائے ہے، میری رائے یہ ہے کہ آپ ان کو میرے حوالے کیجئیے ہم ان کی گردنیں ماریں تو عقیل کو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے حوالے کیجئیے وہ ان کی گردن ماریں اور مجھے میرا فلاں عزیز دیجئیے میں اس کی گردن ماروں کیونکہ یہ لوگ کفر کے مہری ہیں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے پسند آئی۔ اور میری رائے پسند نہیں آئی، جب دوسرا دن ہوا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں بیٹھے رو رہے تھے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ اور آپ کے ساتھی کیوں روتے ہیں اگر مجھے بھی رونا آئے تو میں بھی روؤں گا ورنہ رونے کی صورت بناؤں گا۔ آپ دونوں کے رونے سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں روتا ہوں اس واقعہ سے جو پیش آیا تمہارے ساتھیوں کو فدیہ لینے سے میرے سامنے ان کا عذاب لایا گیا اس درخت سے بھی زیادہ نزدیک (ایک درخت تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «مَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِى الأَرْضِ» سے «‏‏‏‏فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلاَلاً طَيِّبًا» (۸-الأنفال:۶۷-۶۹) اخیر تک ”یعنی نبی کو یہ درست نہیں کہ وہ قیدی رکھے جب تک زور نہ توڑدے کافروں کا زمین میں۔“

Hadith in Arabic

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ح ، وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ هُوَ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ أَلْفٌ وَأَصْحَابُهُ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَتِسْعَةَ عَشَرَ رَجُلًا ، فَاسْتَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ ، فَجَعَلَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ اللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي ، اللَّهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِي ، اللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ ، فَمَا زَالَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ مَادًّا يَدَيْهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ حَتَّى سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ مَنْكِبَيْهِ ، فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَأَلْقَاهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ ، وَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، كَفَاكَ مُنَاشَدَتُكَ رَبَّكَ ، فَإِنَّهُ سَيُنْجِزُ لَكَ مَا وَعَدَكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُرْدِفِينَ سورة الأنفال آية 9 فَأَمَدَّهُ اللَّهُ بِالْمَلَائِكَةِ ، قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ : فَحَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ يَشْتَدُّ فِي أَثَرِ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَمَامَهُ إِذْ سَمِعَ ضَرْبَةً بِالسَّوْطِ ، فَوْقَهُ وَصَوْتَ الْفَارِسِ ، يَقُولُ : أَقْدِمْ حَيْزُومُ ، فَنَظَرَ إِلَى الْمُشْرِكِ أَمَامَهُ ، فَخَرَّ مُسْتَلْقِيًا ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ ، فَإِذَا هُوَ قَدْ خُطِمَ أَنْفُهُ وَشُقَّ وَجْهُهُ كَضَرْبَةِ السَّوْطِ ، فَاخْضَرَّ ذَلِكَ أَجْمَعُ ، فَجَاءَ الْأَنْصَارِيُّ فَحَدَّثَ بِذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : صَدَقْتَ ، ذَلِكَ مِنْ مَدَدِ السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ ، فَقَتَلُوا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ وَأَسَرُوا سَبْعِينَ ، قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَلَمَّا أَسَرُوا الْأُسَارَى ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ : مَا تَرَوْنَ فِي هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى ؟ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ هُمْ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِيرَةِ أَرَى أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُمْ ، فِدْيَةً فَتَكُونُ لَنَا قُوَّةً عَلَى الْكُفَّارِ فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُمْ لِلْإِسْلَامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ ، قُلْتُ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَرَى الَّذِي رَأَى أَبُو بَكْرٍ ، وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ تُمَكِّنَّا فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ فَتُمَكِّنَ عَلِيًّا مِنْ عَقِيلٍ ، فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ وَتُمَكِّنِّي مِنْ فُلَانٍ نَسِيبًا لِعُمَرَ فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ ، فَإِنَّ هَؤُلَاءِ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ وَصَنَادِيدُهَا ، فَهَوِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ جِئْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ قَاعِدَيْنِ يَبْكِيَانِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَبْكِي أَنْتَ وَصَاحِبُكَ ؟ فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ ، وَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُكَاءً تَبَاكَيْتُ لِبُكَائِكُمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبْكِي لِلَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُكَ مِنْ أَخْذِهِمُ الْفِدَاءَ لَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ عَذَابُهُمْ أَدْنَى مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، شَجَرَةٍ قَرِيبَةٍ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الأَرْضِ سورة الأنفال آية 67 إِلَى قَوْلِهِ فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلالا طَيِّبًا سورة الأنفال آية 69 فَأَحَلَّ اللَّهُ الْغَنِيمَةَ لَهُمْ " .

Your Comments/Thoughts ?

جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے سے مزید احادیث

حدیث نمبر 4544

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا اس میں لفظ «اللّٰھم» کا ذکر نہیں ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4686

‏‏‏‏ یزید بن ہرمز سے روایت ہے، نجدہ بن عامر حروری نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا، پوچھتا تھا ان سے کہ غلام اور عورت اگر جہاد میں شریک ہوں تو ان کو حصہ ملے گا یا نہیں اور بچوں کا قتل کیسا ہے اور بچوں کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے اور «‏‏‏‏ذوالقربيٰ» (جن کا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4641

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے دن (جب کافروں کا غلبہ ہوا اور مسلمان مغلوب ہو گئے) الگ ہو گئے سات آدمی انصار کے اور دو قریش کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہ گئے اور کافروں نے آپ مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4615

‏‏‏‏ ابواسحاق سے روایت ہے، ایک شخص نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابوعمارہ! تم حنین کے دن بھاگے؟ انہوں نے کہا: نہیں قسم اللہ کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹھ نہیں موڑی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے چند جوان جلد باز جن کے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4572

‏‏‏‏ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم نے جہاد کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوازن کا (جو ۸ ہجری میں ہوا) ایک دن ہم صبح کا ناشتہ کر رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اتنے میں ایک شخص آیا، لال اونٹ پر سوار، ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4668

‏‏‏‏ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے خیبر کی طرف تو رات کو چلے۔ ایک شخص ہم میں سے بولا: اے عامر بن اکوع! (میرے بھائی کو) کچھ اپنے شعر نہیں سناتے (تاکہ راستہ کٹے اور جی نہ گھبرائے (نووی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4535

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر دغا باز کا ایک جھنڈا ہو گا قیامت کے دن جس سے وہ پہچانا جائے گا کہا جائے گا یہ دغا بازی ہے فلانے کی۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4622

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کئی جماعتیں سفر کر کے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں رمضان المبارک کے مہینہ میں۔ عبداللہ بن رباح رضی اللہ عنہ نے کہا: (جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اس حدیث کو) ہم میں سے ایک دوسرے کے لیے کھانا تیار کرتا تو ابوہریرہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4575

‏‏‏‏ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بنی نضیر کے مال ان مالوں میں سے تھے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دیے اور مسلمانوں نے اس پر چڑھائی نہیں کی گھوڑوں اور اونٹوں سے۔ ایسے مال خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4597

‏‏‏‏ شعبہ سے اسی کی مثل مروی ہے اور اس نے اپنی حدیث میں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ”تو نے اللہ کے حکم پر فیصلہ کیا۔“ اور ایک دفعہ یوں فرمایا: ”بادشاہ کے حکم پر فیصلہ کیا۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4548

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت پائی گئی ایک لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس کو مار ڈالا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا عورتوں اور بچوں کو مارنے سے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4691

‏‏‏‏ ہشام بن حسان نے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4651

‏‏‏‏ ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین بار دعا کر رہے تھے عاجزی سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”یا اللہ! سمجھ لے قریش سے۔ یا اللہ! تو سمجھ لے قریش سے۔ یا اللہ! تو سمجھ لے قریش سے۔“ اور ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4567

‏‏‏‏ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی روایت ہے جیسے آگے آتی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4645

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دانت مبارک ٹوٹا احد کے دن اور سر پر زخم لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خون کو دور کرتے تھے اور فرماتے تھے: ”کیسے فلاح ہو گی اس قوم کی جس نے زخمی کیا اپنے پیغمبر ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4611

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4672

‏‏‏‏ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہم خندق کھود رہے تھے اور مٹی اپنے کاندھوں پر ڈھو رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اللہ! نہیں ہے عیش مگر آخرت کا عیش اور بخش دے تو مہاجرین ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4608

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اتنا زیادہ ہے کہ قیصر جب ایران کی فوج کو اللہ تعالیٰ نے شکست دی توحمص سے ایلیا (بیت المقدس) کی طرف گیا اس فتح کا شکر کرنے کو اور خط میں یہ ہے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول کی طرف ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4598

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو خندق کے دن ایک شخص نے جو قریش میں سے تھا عرقہ (اس کی ماں کا نام ہے) کا بیٹا ایک تیر مارا، وہ تیر ان کی اکحل (شریان) میں لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4593

‏‏‏‏ موسیٰ نے ان سندوں کے ساتھ یہ حدیث روایت کی اور ابن جریج کی روایت واضح اور مکمل ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے