جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو

جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو

اے جان جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو

یہ خواب ہے خوشبو ہے کہ جھونکا ہے کہ پل ہے

یہ دھند ہے بادل ہے کہ سایا ہے کہ تم ہو

اس دید کی ساعت میں کئی رنگ ہیں لرزاں

میں ہوں کہ کوئی اور ہے دنیا ہے کہ تم ہو

دیکھو یہ کسی اور کی آنکھیں ہیں کہ میری

دیکھوں یہ کسی اور کا چہرہ ہے کہ تم ہو

یہ عمر گریزاں کہیں ٹھہرے تو یہ جانوں

ہر سانس میں مجھ کو یہی لگتا ہے کہ تم ہو

ہر بزم میں موضوع سخن دل زدگاں کا

اب کون ہے شیریں ہے کہ لیلیٰ ہے کہ تم ہو

اک درد کا پھیلا ہوا صحرا ہے کہ میں ہوں

اک موج میں آیا ہوا دریا ہے کہ تم ہو

وہ وقت نہ آئے کہ دل زار بھی سوچے

اس شہر میں تنہا کوئی ہم سا ہے کہ تم ہو

آباد ہم آشفتہ سروں سے نہیں مقتل

یہ رسم ابھی شہر میں زندہ ہے کہ تم ہو

اے جان فرازؔ اتنی بھی توفیق کسے تھی

ہم کو غم ہستی بھی گوارا ہے کہ تم ہو

(321) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Jis Samt Bhi Dekhun Nazar Aata Hai Ki Tum Ho In Urdu By Famous Poet Ahmad Faraz. Jis Samt Bhi Dekhun Nazar Aata Hai Ki Tum Ho is written by Ahmad Faraz. Enjoy reading Jis Samt Bhi Dekhun Nazar Aata Hai Ki Tum Ho Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Ahmad Faraz. Free Dowlonad Jis Samt Bhi Dekhun Nazar Aata Hai Ki Tum Ho by Ahmad Faraz in PDF.