خواب میں کوئی مجھ کو آس دلانے بیٹھا تھا

خواب میں کوئی مجھ کو آس دلانے بیٹھا تھا

جاگا تو میں خود اپنے ہی سرہانے بیٹھا تھا

یونہی رکا تھا دم لینے کو، تم نے کیا سمجھا؟

ہار نہیں مانی تھی بس سستانے بیٹھا تھا

خود بھی لہولہان ہوا دل، مجھے بھی زخم دیے

میں بھی کیسے وحشی کو سمجھانے بیٹھا تھا

لاکھ جتن کرنے پر بھی کم ہوا نہ دل کا بوجھ

کیسا بھاری پتھر میں سرکانے بیٹھا تھا

تارے کرنوں کی رتھ پر لائے تھے اس کی یاد

چاند بھی خوابوں کا چندن مہکانے بیٹھا تھا

نئے برس کی خوشیوں میں مشغول تھے سب، اور میں

گئے برس کی چوٹوں کو سہلانے بیٹھا تھا

وہ تو کل جھنکار سے پرکھ لیا اس گیانی نے

میں تو پیتل کے سکے چمکانے بیٹھا تھا

دشمن جتنے آئے ان کے خطا ہوئے سب تیر

لیکن اپنوں کا ہر تیر نشانے بیٹھا تھا

قصوں کو سچ ماننے والے، دیکھ لیا انجام؟

پاگل جھوٹ کی طاقت سے ٹکرانے بیٹھا تھا

مت پوچھو کتنی شدت سے یاد آئی تھی ماں

آج میں جب چٹنی سے روٹی کھانے بیٹھا تھا

اپنا قصور سمجھ نہیں آیا جتنا غور کیا

میں تو سچے دل سے ہی پچھتانے بیٹھا تھا

عین اسی دم ختم ہوئی تھی مہلت جب عرفانؔ

خود کو توڑ چکا تھا اور بنانے بیٹھا تھا

(733) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

KHwab Mein Koi Mujhko Aas Dilane BaiTha Tha In Urdu By Famous Poet Irfan Sattar. KHwab Mein Koi Mujhko Aas Dilane BaiTha Tha is written by Irfan Sattar. Enjoy reading KHwab Mein Koi Mujhko Aas Dilane BaiTha Tha Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Irfan Sattar. Free Dowlonad KHwab Mein Koi Mujhko Aas Dilane BaiTha Tha by Irfan Sattar in PDF.