مجھے سوچنے دے

میری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑ

اپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سنا

زندگی تلخ سہی زہر سہی سم ہی سہی

درد و آزار سہی جبر سہی غم ہی سہی

لیکن اس درد و غم و جبر کی وسعت کو تو دیکھ

ظلم کی چھاؤں میں دم توڑتی خلقت کو تو دیکھ

اپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سنا

میری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑ

جلسہ گاہوں میں یہ دہشت زدہ سہمے انبوہ

رہ گزاروں پہ فلاکت زدہ لوگوں کے گروہ

بھوک اور پیاس سے پژمردہ سیہ فام زمیں

تیرہ و تار مکاں مفلس و بیمار مکیں

نوع انساں میں یہ سرمایہ و محنت کا تضاد

امن و تہذیب کے پرچم تلے قوموں کا فساد

ہر طرف آتش و آہن کا یہ سیلاب عظیم

نت نئے طرز پہ ہوتی ہوئی دنیا تقسیم

لہلہاتے ہوئے کھیتوں پہ جوانی کا سماں

اور دہقان کے چھپر میں نہ بتی نہ دھواں

یہ فلک بوس ملیں دل کش و سیمیں بازار

یہ غلاظت پہ جھپٹتے ہوئے بھوکے نادار

دور ساحل پہ وہ شفاف مکانوں کی قطار

سرسراتے ہوئے پردوں میں سمٹتے گل زار

در و دیوار پہ انوار کا سیلاب رواں

جیسے اک شاعر مدہوش کے خوابوں کا جہاں

یہ سبھی کیوں ہے یہ کیا ہے مجھے کچھ سوچنے دے

کون انساں کا خدا ہے مجھے کچھ سوچنے دے

اپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سنا

میری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑ

(1044) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

In Urdu By Famous Poet Sahir Ludhianvi. is written by Sahir Ludhianvi. Enjoy reading  Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by Sahir Ludhianvi. Free Dowlonad  by Sahir Ludhianvi in PDF.