Surah Al-Anbiya With Urdu Translation and MP3

سورة الأنبياء

Read Surah Al-Anbiya with Urdu Translation - Surah Al-Anbiya is Meccan Surah and also called Makki Surah of Quran e Pak. You can read Surah Al-Anbiya with Urdu Translation and download mp3 Surah Al-Anbiya in your mobile and WhatsApp with voice of Surah Al-Anbiya Recited by Sheikh Abdur Rahman Al-Sudais & Sheikh Su'ud As-Shuraim. Read and Download Al-Anbiya Ayat by Ayat in Urdu Translation and Tafseer.
Para / Chapter 17
Surah Name Al-Anbiya
Classification Meccan - Makki Surah
Surah No. 21
Reciter Surah Al-Anbiya Recited By Sheikh Abdur Rahman Al-Sudais & Sheikh Su'ud As-Shuraim
Download Click here to Download Surah Al-Anbiya Audio MP3

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

﴿۱﴾ لوگوں کا حساب (اعمال کا وقت) نزدیک آپہنچا ہے اور وہ غفلت میں (پڑے اس سے) منہ پھیر رہے ہیں

﴿۲﴾ ان کے پاس کوئی نئی نصیحت ان کے پروردگار کی طرف سے نہیں آتی مگر وہ اسے کھیلتے ہوئے سنتے ہیں

﴿۳﴾ ان کے دل غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ظالم لوگ (آپس میں) چپکے چپکے باتیں کرتے ہیں کہ یہ (شخص کچھ بھی) نہیں مگر تمہارے جیسا آدمی ہے۔ تو تم آنکھوں دیکھتے جادو (کی لپیٹ) میں کیوں آتے ہو

﴿۴﴾ (پیغمبر نے) کہا کہ جو بات آسمان اور زمین میں (کہی جاتی) ہے میرا پروردگار اسے جانتا ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے

﴿۵﴾ بلکہ (ظالم) کہنے لگے کہ (یہ قرآن) پریشان (باتیں ہیں جو) خواب (میں دیکھ لی) ہیں۔ (نہیں) بلکہ اس نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے (نہیں) بلکہ (یہ شعر ہے جو اس) شاعر (کا نتیجہٴ طبع) ہے۔ تو جیسے پہلے (پیغمبر نشانیاں دے کر) بھیجے گئے تھے (اسی طرح) یہ بھی ہمارے پاس کوئی نشانی لائے

﴿۶﴾ ان سے پہلے جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا وہ ایمان نہیں لاتی تھیں۔ تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے

﴿۷﴾ اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی (پیغمبر بنا کر) بھیجے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد رکھتے ہیں ان سے پوچھ لو

﴿۸﴾ اور ہم نے ان کے لئے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے

﴿۹﴾ پھر ہم نے ان کے بارے میں (اپنا) وعدہ سچا کردیا تو ان کو اور جس کو چاہا نجات دی اور حد سے نکل جانے والوں کو ہلاک کردیا

﴿۱۰﴾ ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے۔ کیا تم نہیں سمجھتے

﴿۱۱﴾ اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو ستمگار تھیں ہلاک کر مارا اور ان کے بعد اور لوگ پیدا کردیئے

﴿۱۲﴾ جب انہوں نے ہمارے (مقدمہ) عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے

﴿۱۳﴾ مت بھاگو اور جن (نعمتوں) میں تم عیش وآسائش کرتے تھے ان کی اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ۔ شاید تم سے (اس بارے میں) دریافت کیا جائے

﴿۱۴﴾ کہنے لگے ہائے شامت بےشک ہم ظالم تھے

﴿۱۵﴾ تو وہ ہمیشہ اسی طرح پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو (کھیتی کی طرح) کاٹ کر (اور آگ کی طرح) بجھا کر ڈھیر کردیا

﴿۱۶﴾ اور ہم نے آسمان اور زمین کو جو اور (مخلوقات) ان دونوں کے درمیان ہے اس کو لہوولعب کے لئے پیدا نہیں کیا

﴿۱۷﴾ اگر ہم چاہتے کہ کھیل (کی چیزیں یعنی زن وفرزند) بنائیں تو اگر ہم کو کرنا ہوتا تو ہم اپنے پاس سے بنالیتے

﴿۱۸﴾ بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں تو وہ اس کا سر توڑ دیتا ہے اور جھوٹ اسی وقت نابود ہوجاتا ہے۔ اور جو باتیں تم بناتے ہو ان سے تمہاری ہی خرابی ہے

﴿۱۹﴾ اور جو لوگ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہیں سب اسی کے (مملوک اور اُسی کا مال) ہیں۔ اور جو (فرشتے) اُس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے نہ کنیاتے ہیں اور نہ اکتاتے ہیں

﴿۲۰﴾ رات دن (اُس کی) تسبیح کرتے رہتے ہیں (نہ تھکتے ہیں) نہ اکتاتے ہیں

﴿۲۱﴾ بھلا لوگوں نے جو زمین کی چیزوں سے (بعض کو) معبود بنا لیا ہے (تو کیا) وہ ان کو (مرنے کے بعد) اُٹھا کھڑا کریں گے؟

﴿۲۲﴾ اگر آسمان اور زمین میں خدا کے سوا اور معبود ہوتے تو زمین وآسمان درہم برہم ہوجاتے۔ جو باتیں یہ لوگ بتاتے ہیں خدائے مالک عرش ان سے پاک ہے

﴿۲۳﴾ وہ جو کام کرتا ہے اس کی پرستش نہیں ہوگی اور (جو کام یہ لوگ کرتے ہیں اس کی) ان سے پرستش ہوگی

﴿۲۴﴾ کیا لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر اور معبود بنالئے ہیں۔ کہہ دو کہ (اس بات پر) اپنی دلیل پیش کرو۔ یہ (میری اور) میرے ساتھ والوں کی کتاب بھی ہے اور جو مجھ سے پہلے (پیغمبر) ہوئے ہیں۔ ان کی کتابیں بھی ہیں۔ بلکہ (بات یہ ہے کہ) ان اکثر حق بات کو نہیں جانتے اور اس لئے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

﴿۲۵﴾ اور جو پیغمبر ہم نےتم سے پہلے بھیجے ان کی طرف یہی وحی بھیجی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری ہی عبادت کرو

﴿۲۶﴾ اور کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے۔ وہ پاک ہے (اس کے نہ بیٹا ہے نہ بیٹی) بلکہ (جن کو یہ لوگ اس کے بیٹے بیٹیاں سمجھتے ہیں) وہ اس کے عزت والے بندے ہیں

﴿۲۷﴾ اس کے آگے بڑھ کر بول نہیں سکتے۔ اور اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں

﴿۲۸﴾ جو کچھ ان کے آگے ہوچکا ہے اور پیچھے ہوگا وہ سب سے واقف ہے اور وہ (اس کے پاس کسی کی) سفارش نہیں کرسکتے مگر اس شخص کی جس سے خدا خوش ہو اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں

﴿۲۹﴾ اور جو شخص ان میں سے یہ کہے کہ خدا کے سوا میں معبود ہوں تو اسے ہم دوزخ کی سزا دیں گے اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں

﴿۳۰﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟

﴿۳۱﴾ اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ لوگوں (کے بوجھ) سے ہلنے (اور جھکنے) نہ لگے اور اس میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ ان پر چلیں

﴿۳۲﴾ اور آسمان کو محفوظ چھت بنایا۔ اس پر بھی وہ ہماری نشانیوں سے منہ پھیر رہے ہیں

﴿۳۳﴾ اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو بنایا۔ (یہ) سب (یعنی سورج اور چاند اور ستارے) آسمان میں (اس طرح چلتے ہیں گویا) تیر رہے ہیں

﴿۳۴﴾ اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کو بقائے دوام نہیں بخشا۔ بھلا اگر تم مرجاؤ تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے

﴿۳۵﴾ ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے۔ اور ہم تو لوگوں کو سختی اور آسودگی میں آزمائش کے طور پر مبتلا کرتے ہیں۔ اور تم ہماری طرف ہی لوٹ کر آؤ گے

﴿۳۶﴾ اور جب کافر تم کو دیکھتے ہیں تو تم سے استہزاء کرتے ہیں کہ کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر (برائی سے) کیا کرتا ہے حالانکہ وہ خود رحمٰن کے نام سے منکر ہیں

﴿۳۷﴾ انسان (کچھ ایسا جلد باز ہے کہ گویا) جلد بازی ہی سے بنایا گیا ہے۔ میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھاؤں گا تو تم جلدی نہ کرو

﴿۳۸﴾ اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعید (ہے وہ) کب (آئے گا)؟

﴿۳۹﴾ اے کاش کافر اس وقت کو جانیں جب وہ اپنے مونہوں پر سے (دوزخ کی) آگ کو روک نہ سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں پر سے اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا

﴿۴۰﴾ بلکہ قیامت ان پر ناگہاں آ واقع ہوگی۔ اور ان کے ہوش کھو دے گی۔ پھر نہ تو وہ اس کو ہٹا سکیں گے اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی

﴿۴۱﴾ اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ استہزاء ہوتا رہا ہے تو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو اسی (عذاب) نے جس کی ہنسی اُڑاتے تھے آگھیرا

﴿۴۲﴾ کہو کہ رات اور دن میں خدا سے تمہاری کون حفاظت کرسکتا ہے؟ بات یہ ہے کہ اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیرے ہوئے ہیں

﴿۴۳﴾ کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو (مصائب سے) بچاسکیں۔ وہ آپ اپنی مدد تو کر ہی نہیں سکتے اور نہ ہم سے پناہ ہی دیئے جائیں گے

﴿۴۴﴾ بلکہ ہم ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتے رہے یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ان کی عمریں بسر ہوگئیں۔ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں۔ تو کیا یہ لوگ غلبہ پانے والے ہیں؟

﴿۴۵﴾ کہہ دو کہ میں تم کو حکم خدا کے مطابق نصیحت کرتا ہوں۔ اور بہروں کوجب نصیحت کی جائے تو وہ پکار کر سنتے ہی نہیں

﴿۴۶﴾ اور اگر ان کو تمہارے پروردگار کا تھوڑا سا عذاب بھی پہنچے تو کہنے لگیں کہ ہائے کم بختی ہم بےشک ستمگار تھے

﴿۴۷﴾ اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو کھڑی کریں گے تو کسی شخص کی ذرا بھی حق تلفی نہ کی جائے گی۔ اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی (کسی کا عمل) ہوگا تو ہم اس کو لاحاضر کریں گے۔ اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیں

﴿۴۸﴾ اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو (ہدایت اور گمراہی میں) فرق کر دینے والی اور (سرتاپا) روشنی اور نصیحت (کی کتاب) عطا کی (یعنی) پرہیز گاروں کے لئے

﴿۴۹﴾ جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور قیامت کا بھی خوف رکھتے ہیں

﴿۵۰﴾ یہ مبارک نصیحت ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے تو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو؟

﴿۵۱﴾ اور ہم نے ابراہیمؑ کو پہلے ہی سے ہدایت دی تھی اور ہم ان کے حال سے واقف تھے

﴿۵۲﴾ جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا یہ کیا مورتیں ہیں جن (کی پرستش) پر تم معتکف (وقائم) ہو؟

﴿۵۳﴾ وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی پرستش کرتے دیکھا ہے

﴿۵۴﴾ (ابراہیم نے) کہا کہ تم بھی (گمراہ ہو) اور تمہارے باپ دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے رہے

﴿۵۵﴾ وہ بولے کیا تم ہمارے پاس (واقعی) حق لائے ہو یا (ہم سے) کھیل (کی باتیں) کرتے ہو؟

﴿۵۶﴾ (ابراہیم نے) کہا (نہیں) بلکہ تمہارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے جس نے ان کو پیدا کیا ہے۔ اور میں اس (بات) کا گواہ (اور اسی کا قائل) ہوں

﴿۵۷﴾ اور خدا کی قسم جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو میں تمہارے بتوں سے ایک چال چلوں گا

﴿۵۸﴾ پھر ان کو توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا مگر ایک بڑے (بت) کو (نہ توڑا) تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں

﴿۵۹﴾ کہنے لگے کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا؟ وہ تو کوئی ظالم ہے

﴿۶۰﴾ لوگوں نے کہا کہ ہم نے ایک جوان کو ان کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے اس کو ابراہیم کہتے ہیں

﴿۶۱﴾ وہ بولے کہ اسے لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ گواہ رہیں

﴿۶۲﴾ (جب ابراہیم آئے تو) بت پرستوں نے کہا کہ ابراہیم بھلا یہ کام ہمارے معبودوں کے ساتھ تم نے کیا ہے؟

﴿۶۳﴾ (ابراہیم نے) کہا (نہیں) بلکہ یہ ان کے اس بڑے (بت) نے کیا (ہوگا)۔ اگر یہ بولتے ہیں تو ان سے پوچھ لو

﴿۶۴﴾ انہوں نے اپنے دل غور کیا تو آپس میں کہنے لگے بےشک تم ہی بےانصاف ہو

﴿۶۵﴾ پھر (شرمندہ ہو کر) سر نیچا کرلیا (اس پر بھی ابراہیم سے کہنے لگے کہ) تم جانتے ہو یہ بولتے نہیں

﴿۶۶﴾ (ابراہیم نے) کہا پھر تم خدا کو چھوڑ کر کیوں ایسی چیزوں کو پوجتے ہو جو نہ تمہیں کچھ فائدہ دے سکیں اور نقصان پہنچا سکیں؟

﴿۶۷﴾ تف ہے تم پر اور جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو ان پر بھی کیا تم عقل نہیں رکھتے؟

﴿۶۸﴾ (تب وہ) کہنے لگے کہ اگر تمہیں (اس سے اپنے معبود کا انتقام لینا اور) کچھ کرنا ہے تو اس کو جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو

﴿۶۹﴾ ہم نے حکم دیا اے آگ سرد ہوجا اور ابراہیم پر (موجب) سلامتی (بن جا)

﴿۷۰﴾ اور ان لوگوں نے برا تو ان کا چاہا تھا مگر ہم نے ان ہی کو نقصان میں ڈال دیا

﴿۷۱﴾ اور ابراہیم اور لوط کو اس سرزمین کی طرف بچا نکالا جس میں ہم نے اہل عالم کے لئے برکت رکھی تھی

﴿۷۲﴾ اور ہم نے ابراہیم کو اسحق عطا کئے۔ اور مستزاد برآں یعقوب۔ اور سب کو نیک بخت کیا

﴿۷۳﴾ اور ان کو پیشوا بنایا کہ ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ان کو نیک کام کرنے اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے کا حکم بھیجا۔ اور وہ ہماری عبادت کیا کرتے تھے

﴿۷۴﴾ اور لوط (کا قصہ یاد کرو) جب ان کو ہم نے حکم (یعنی حکمت ونبوت) اور علم بخشا اور اس بستی سے جہاں کے لوگ گندے کام کیا کرتے تھے۔ بچا نکالا۔ بےشک وہ برے اور بدکردار لوگ تھے

﴿۷۵﴾ اور انہیں اپنی رحمت کے (محل میں) داخل کیا۔ کچھ شک نہیں کہ وہ نیک بختوں میں تھے

﴿۷۶﴾ اور نوح (کا قصہ بھی یاد کرو) جب (اس سے) پیشتر انہوں نے ہم کو پکارا تو ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کو اور ان کے ساتھیوں کو بڑی گھبراہٹ سے نجات دی

﴿۷۷﴾ اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے ان پر نصرت بخشی۔ وہ بےشک برے لوگ تھے سو ہم نے ان سب کو غرق کردیا

﴿۷۸﴾ اور داؤد اور سلیمان (کا حال بھی سن لو کہ) جب وہ ایک کھیتی کا مقدمہ فیصلہ کرنے لگے جس میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو چر گئی (اور اسے روند گئی) تھیں اور ہم ان کے فیصلے کے وقت موجود تھے

﴿۷۹﴾ تو ہم نے فیصلہ (کرنے کا طریق) سلیمان کو سمجھا دیا۔ اور ہم نے دونوں کو حکم (یعنی حکمت ونبوت) اور علم بخشا تھا۔ اور ہم نے پہاڑوں کو داؤد کا مسخر کردیا تھا کہ ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے اور جانوروں کو بھی (مسخر کردیا تھا اور ہم ہی ایسا) کرنے والے تھے

﴿۸۰﴾ اور ہم نے تمہارے لئے ان کو ایک (طرح) کا لباس بنانا بھی سکھا دیا تاکہ تم کو لڑائی (کے ضرر) سے بچائے۔ پس تم کو شکرگزار ہونا چاہیئے

﴿۸۱﴾ اور ہم نے تیز ہوا سلیمان کے تابع (فرمان) کردی تھی جو ان کے حکم سے اس ملک میں چلتی تھی جس میں ہم نے برکت دی تھی (یعنی شام) اور ہم ہر چیز سے خبردار ہیں

﴿۸۲﴾ اور دیوؤں (کی جماعت کو بھی ان کے تابع کردیا تھا کہ ان) میں سے بعض ان کے لئے غوطے مارتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کے نگہبان تھے

﴿۸۳﴾ اور ایوب کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے ایذا ہو رہی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے

﴿۸۴﴾ تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو ان کو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ان کو بال بچے بھی عطا فرمائے اور اپنی مہربانی کے ساتھ اتنے ہی اور (بخشے) اور عبادت کرنے والوں کے لئے (یہ) نصیحت ہے

﴿۸۵﴾ اور اسمٰعیل اور ادریس اور ذوالکفل (کو بھی یاد کرو) یہ سب صبر کرنے والے تھے

﴿۸۶﴾ اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا۔ بلاشبہ وہ نیکوکار تھے

﴿۸۷﴾ اور ذوالنون (کو یاد کرو) جب وہ (اپنی قوم سے ناراض ہو کر) غصے کی حالت میں چل دیئے اور خیال کیا کہ ہم ان پر قابو نہیں پاسکیں گے۔ آخر اندھیرے میں (خدا کو) پکارنے لگے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو پاک ہے (اور) بےشک میں قصوروار ہوں

﴿۸۸﴾ تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو غم سے نجات بخشی۔ اور ایمان والوں کو ہم اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں

﴿۸۹﴾ اور زکریا (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ پروردگار مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے

﴿۹۰﴾ تو ہم نے ان کی پکار سن لی۔ اور ان کو یحییٰ بخشے اور ان کی بیوی کو اُن کے (حسن معاشرت کے) قابل بنادیا۔ یہ لوگ لپک لپک کر نیکیاں کرتے اور ہمیں امید سے پکارتے اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے

﴿۹۱﴾ اور ان (مریم) کو (بھی یاد کرو) جنہوں نے اپنی عفّت کو محفوظ رکھا۔ تو ہم نے ان میں اپنی روح پھونک دی اور ان کے بیٹے کو اہل عالم کے لئے نشانی بنا دیا

﴿۹۲﴾ یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو

﴿۹۳﴾ اور یہ لوگ اپنے معاملے میں باہم متفرق ہوگئے۔ (مگر) سب ہماری طرف رجوع کرنے والے ہیں

﴿۹۴﴾ جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کی کوشش رائیگاں نہ جائے گی۔ اور ہم اس کے لئے (ثواب اعمال) لکھ رہے ہیں

﴿۹۵﴾ اور جس بستی (والوں) کو ہم نے ہلاک کردیا محال ہے کہ (وہ دنیا کی طرف رجوع کریں) وہ رجوع نہیں کریں گے

﴿۹۶﴾ یہاں تک کہ یاجوج ماجوج کھول دیئے جائیں اور وہ ہر بلندی سے دوڑ رہے ہوں

﴿۹۷﴾ اور (قیامت کا) سچا وعدہ قریب آجائے تو ناگاہ کافروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں (اور کہنے لگیں کہ) ہائے شامت ہم اس (حال) سے غفلت میں رہے بلکہ (اپنے حق میں) ظالم تھے

﴿۹۸﴾ (کافرو اس روز) تم اور جن کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہوں گے۔ اور تم سب اس میں داخل ہو کر رہو گے

﴿۹۹﴾ اگر یہ لوگ (درحقیقت) معبود ہوتے تو اس میں داخل نہ ہوتے۔ سب اس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے

﴿۱۰۰﴾ وہاں ان کو چلاّنا ہوگا اور اس میں (کچھ) نہ سن سکیں گے

﴿۱۰۱﴾ جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے پہلے بھلائی مقرر ہوچکی ہے۔ وہ اس سے دور رکھے جائیں گے

﴿۱۰۲﴾ (یہاں تک کہ) اس کی آواز بھی تو نہیں سنیں گے۔ اور جو کچھ ان کا جی چاہے گا اس میں (یعنی) ہر طرح کے عیش اور لطف میں ہمیشہ رہیں گے

﴿۱۰۳﴾ ان کو (اس دن کا) بڑا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا۔ اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے (اور کہیں گے کہ) یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے

﴿۱۰۴﴾ جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ لیں گے جیسے خطوں کا طومار لپیٹ لیتے ہیں۔ جس طرح ہم نے (کائنات کو) پہلے پیدا کیا اسی طرح دوبارہ پیدا کردیں گے۔ (یہ) وعدہ (جس کا پورا کرنا لازم) ہے۔ ہم (ایسا) ضرور کرنے والے ہیں

﴿۱۰۵﴾ اور ہم نے نصیحت (کی کتاب یعنی تورات) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ میرے نیکوکار بندے ملک کے وارث ہوں گے

﴿۱۰۶﴾ عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں (خدا کے حکموں کی) تبلیغ ہے

﴿۱۰۷﴾ اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو تمام جہان کے لئے رحمت (بنا کر) بھیجا ہے

﴿۱۰۸﴾ کہہ دو کہ مجھ پر (خدا کی طرح سے) یہ وحی آتی ہے کہ تم سب کا معبود خدائے واحد ہے۔ تو تم کو چاہیئے کہ فرمانبردار بن جاؤ

﴿۱۰۹﴾ اگر یہ لوگ منہ پھیریں تو کہہ دو کہ میں نے تم کو سب کو یکساں (احکام الہیٰ سے) آگاہ کردیا ہے۔ اور مجھ کو معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ (عن) قریب (آنے والی) ہے یا (اس کا وقت) دور ہے

﴿۱۱۰﴾ اور جو بات پکار کی جائے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو تم پوشیدہ کرتے ہو اس سے بھی واقف ہے

﴿۱۱۱﴾ اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لئے آزمائش ہو اور ایک مدت تک (تم اس سے) فائدہ (اٹھاتے رہو)

﴿۱۱۲﴾ پیغمبر نے کہا کہ اے میرے پروردگار حق کے ساتھ فیصلہ کردے۔ اور ہمارا پروردگار بڑا مہربان ہے اسی سے ان باتوں میں جو تم بیان کرتے ہو مدد مانگی جاتی ہے

﴿۱﴾ لوگوں کا حساب (اعمال کا وقت) نزدیک آپہنچا ہے اور وہ غفلت میں (پڑے اس سے) منہ پھیر رہے ہیں

﴿۲﴾ ان کے پاس کوئی نئی نصیحت ان کے پروردگار کی طرف سے نہیں آتی مگر وہ اسے کھیلتے ہوئے سنتے ہیں

﴿۳﴾ ان کے دل غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ظالم لوگ (آپس میں) چپکے چپکے باتیں کرتے ہیں کہ یہ (شخص کچھ بھی) نہیں مگر تمہارے جیسا آدمی ہے۔ تو تم آنکھوں دیکھتے جادو (کی لپیٹ) میں کیوں آتے ہو

﴿۴﴾ (پیغمبر نے) کہا کہ جو بات آسمان اور زمین میں (کہی جاتی) ہے میرا پروردگار اسے جانتا ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے

﴿۵﴾ بلکہ (ظالم) کہنے لگے کہ (یہ قرآن) پریشان (باتیں ہیں جو) خواب (میں دیکھ لی) ہیں۔ (نہیں) بلکہ اس نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے (نہیں) بلکہ (یہ شعر ہے جو اس) شاعر (کا نتیجہٴ طبع) ہے۔ تو جیسے پہلے (پیغمبر نشانیاں دے کر) بھیجے گئے تھے (اسی طرح) یہ بھی ہمارے پاس کوئی نشانی لائے

﴿۶﴾ ان سے پہلے جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا وہ ایمان نہیں لاتی تھیں۔ تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے

﴿۷﴾ اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی (پیغمبر بنا کر) بھیجے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد رکھتے ہیں ان سے پوچھ لو

﴿۸﴾ اور ہم نے ان کے لئے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے

﴿۹﴾ پھر ہم نے ان کے بارے میں (اپنا) وعدہ سچا کردیا تو ان کو اور جس کو چاہا نجات دی اور حد سے نکل جانے والوں کو ہلاک کردیا

﴿۱۰﴾ ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے۔ کیا تم نہیں سمجھتے

﴿۱۱﴾ اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو ستمگار تھیں ہلاک کر مارا اور ان کے بعد اور لوگ پیدا کردیئے

﴿۱۲﴾ جب انہوں نے ہمارے (مقدمہ) عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے

﴿۱۳﴾ مت بھاگو اور جن (نعمتوں) میں تم عیش وآسائش کرتے تھے ان کی اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ۔ شاید تم سے (اس بارے میں) دریافت کیا جائے

﴿۱۴﴾ کہنے لگے ہائے شامت بےشک ہم ظالم تھے

﴿۱۵﴾ تو وہ ہمیشہ اسی طرح پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو (کھیتی کی طرح) کاٹ کر (اور آگ کی طرح) بجھا کر ڈھیر کردیا

﴿۱۶﴾ اور ہم نے آسمان اور زمین کو جو اور (مخلوقات) ان دونوں کے درمیان ہے اس کو لہوولعب کے لئے پیدا نہیں کیا

﴿۱۷﴾ اگر ہم چاہتے کہ کھیل (کی چیزیں یعنی زن وفرزند) بنائیں تو اگر ہم کو کرنا ہوتا تو ہم اپنے پاس سے بنالیتے

﴿۱۸﴾ بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں تو وہ اس کا سر توڑ دیتا ہے اور جھوٹ اسی وقت نابود ہوجاتا ہے۔ اور جو باتیں تم بناتے ہو ان سے تمہاری ہی خرابی ہے

﴿۱۹﴾ اور جو لوگ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہیں سب اسی کے (مملوک اور اُسی کا مال) ہیں۔ اور جو (فرشتے) اُس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے نہ کنیاتے ہیں اور نہ اکتاتے ہیں

﴿۲۰﴾ رات دن (اُس کی) تسبیح کرتے رہتے ہیں (نہ تھکتے ہیں) نہ اکتاتے ہیں

﴿۲۱﴾ بھلا لوگوں نے جو زمین کی چیزوں سے (بعض کو) معبود بنا لیا ہے (تو کیا) وہ ان کو (مرنے کے بعد) اُٹھا کھڑا کریں گے؟

﴿۲۲﴾ اگر آسمان اور زمین میں خدا کے سوا اور معبود ہوتے تو زمین وآسمان درہم برہم ہوجاتے۔ جو باتیں یہ لوگ بتاتے ہیں خدائے مالک عرش ان سے پاک ہے

﴿۲۳﴾ وہ جو کام کرتا ہے اس کی پرستش نہیں ہوگی اور (جو کام یہ لوگ کرتے ہیں اس کی) ان سے پرستش ہوگی

﴿۲۴﴾ کیا لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر اور معبود بنالئے ہیں۔ کہہ دو کہ (اس بات پر) اپنی دلیل پیش کرو۔ یہ (میری اور) میرے ساتھ والوں کی کتاب بھی ہے اور جو مجھ سے پہلے (پیغمبر) ہوئے ہیں۔ ان کی کتابیں بھی ہیں۔ بلکہ (بات یہ ہے کہ) ان اکثر حق بات کو نہیں جانتے اور اس لئے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

﴿۲۵﴾ اور جو پیغمبر ہم نےتم سے پہلے بھیجے ان کی طرف یہی وحی بھیجی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری ہی عبادت کرو

﴿۲۶﴾ اور کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے۔ وہ پاک ہے (اس کے نہ بیٹا ہے نہ بیٹی) بلکہ (جن کو یہ لوگ اس کے بیٹے بیٹیاں سمجھتے ہیں) وہ اس کے عزت والے بندے ہیں

﴿۲۷﴾ اس کے آگے بڑھ کر بول نہیں سکتے۔ اور اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں

﴿۲۸﴾ جو کچھ ان کے آگے ہوچکا ہے اور پیچھے ہوگا وہ سب سے واقف ہے اور وہ (اس کے پاس کسی کی) سفارش نہیں کرسکتے مگر اس شخص کی جس سے خدا خوش ہو اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں

﴿۲۹﴾ اور جو شخص ان میں سے یہ کہے کہ خدا کے سوا میں معبود ہوں تو اسے ہم دوزخ کی سزا دیں گے اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں

﴿۳۰﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟

﴿۳۱﴾ اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ لوگوں (کے بوجھ) سے ہلنے (اور جھکنے) نہ لگے اور اس میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ ان پر چلیں

﴿۳۲﴾ اور آسمان کو محفوظ چھت بنایا۔ اس پر بھی وہ ہماری نشانیوں سے منہ پھیر رہے ہیں

﴿۳۳﴾ اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو بنایا۔ (یہ) سب (یعنی سورج اور چاند اور ستارے) آسمان میں (اس طرح چلتے ہیں گویا) تیر رہے ہیں

﴿۳۴﴾ اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کو بقائے دوام نہیں بخشا۔ بھلا اگر تم مرجاؤ تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے

﴿۳۵﴾ ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے۔ اور ہم تو لوگوں کو سختی اور آسودگی میں آزمائش کے طور پر مبتلا کرتے ہیں۔ اور تم ہماری طرف ہی لوٹ کر آؤ گے

﴿۳۶﴾ اور جب کافر تم کو دیکھتے ہیں تو تم سے استہزاء کرتے ہیں کہ کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر (برائی سے) کیا کرتا ہے حالانکہ وہ خود رحمٰن کے نام سے منکر ہیں

﴿۳۷﴾ انسان (کچھ ایسا جلد باز ہے کہ گویا) جلد بازی ہی سے بنایا گیا ہے۔ میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھاؤں گا تو تم جلدی نہ کرو

﴿۳۸﴾ اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعید (ہے وہ) کب (آئے گا)؟

﴿۳۹﴾ اے کاش کافر اس وقت کو جانیں جب وہ اپنے مونہوں پر سے (دوزخ کی) آگ کو روک نہ سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں پر سے اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا

﴿۴۰﴾ بلکہ قیامت ان پر ناگہاں آ واقع ہوگی۔ اور ان کے ہوش کھو دے گی۔ پھر نہ تو وہ اس کو ہٹا سکیں گے اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی

﴿۴۱﴾ اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ استہزاء ہوتا رہا ہے تو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو اسی (عذاب) نے جس کی ہنسی اُڑاتے تھے آگھیرا

﴿۴۲﴾ کہو کہ رات اور دن میں خدا سے تمہاری کون حفاظت کرسکتا ہے؟ بات یہ ہے کہ اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیرے ہوئے ہیں

﴿۴۳﴾ کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو (مصائب سے) بچاسکیں۔ وہ آپ اپنی مدد تو کر ہی نہیں سکتے اور نہ ہم سے پناہ ہی دیئے جائیں گے

﴿۴۴﴾ بلکہ ہم ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتے رہے یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ان کی عمریں بسر ہوگئیں۔ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں۔ تو کیا یہ لوگ غلبہ پانے والے ہیں؟

﴿۴۵﴾ کہہ دو کہ میں تم کو حکم خدا کے مطابق نصیحت کرتا ہوں۔ اور بہروں کوجب نصیحت کی جائے تو وہ پکار کر سنتے ہی نہیں

﴿۴۶﴾ اور اگر ان کو تمہارے پروردگار کا تھوڑا سا عذاب بھی پہنچے تو کہنے لگیں کہ ہائے کم بختی ہم بےشک ستمگار تھے

﴿۴۷﴾ اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو کھڑی کریں گے تو کسی شخص کی ذرا بھی حق تلفی نہ کی جائے گی۔ اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی (کسی کا عمل) ہوگا تو ہم اس کو لاحاضر کریں گے۔ اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیں

﴿۴۸﴾ اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو (ہدایت اور گمراہی میں) فرق کر دینے والی اور (سرتاپا) روشنی اور نصیحت (کی کتاب) عطا کی (یعنی) پرہیز گاروں کے لئے

﴿۴۹﴾ جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور قیامت کا بھی خوف رکھتے ہیں

﴿۵۰﴾ یہ مبارک نصیحت ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے تو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو؟

﴿۵۱﴾ اور ہم نے ابراہیمؑ کو پہلے ہی سے ہدایت دی تھی اور ہم ان کے حال سے واقف تھے

﴿۵۲﴾ جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا یہ کیا مورتیں ہیں جن (کی پرستش) پر تم معتکف (وقائم) ہو؟

﴿۵۳﴾ وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی پرستش کرتے دیکھا ہے

﴿۵۴﴾ (ابراہیم نے) کہا کہ تم بھی (گمراہ ہو) اور تمہارے باپ دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے رہے

﴿۵۵﴾ وہ بولے کیا تم ہمارے پاس (واقعی) حق لائے ہو یا (ہم سے) کھیل (کی باتیں) کرتے ہو؟

﴿۵۶﴾ (ابراہیم نے) کہا (نہیں) بلکہ تمہارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے جس نے ان کو پیدا کیا ہے۔ اور میں اس (بات) کا گواہ (اور اسی کا قائل) ہوں

﴿۵۷﴾ اور خدا کی قسم جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو میں تمہارے بتوں سے ایک چال چلوں گا

﴿۵۸﴾ پھر ان کو توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا مگر ایک بڑے (بت) کو (نہ توڑا) تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں

﴿۵۹﴾ کہنے لگے کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا؟ وہ تو کوئی ظالم ہے

﴿۶۰﴾ لوگوں نے کہا کہ ہم نے ایک جوان کو ان کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے اس کو ابراہیم کہتے ہیں

﴿۶۱﴾ وہ بولے کہ اسے لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ گواہ رہیں

﴿۶۲﴾ (جب ابراہیم آئے تو) بت پرستوں نے کہا کہ ابراہیم بھلا یہ کام ہمارے معبودوں کے ساتھ تم نے کیا ہے؟

﴿۶۳﴾ (ابراہیم نے) کہا (نہیں) بلکہ یہ ان کے اس بڑے (بت) نے کیا (ہوگا)۔ اگر یہ بولتے ہیں تو ان سے پوچھ لو

﴿۶۴﴾ انہوں نے اپنے دل غور کیا تو آپس میں کہنے لگے بےشک تم ہی بےانصاف ہو

﴿۶۵﴾ پھر (شرمندہ ہو کر) سر نیچا کرلیا (اس پر بھی ابراہیم سے کہنے لگے کہ) تم جانتے ہو یہ بولتے نہیں

﴿۶۶﴾ (ابراہیم نے) کہا پھر تم خدا کو چھوڑ کر کیوں ایسی چیزوں کو پوجتے ہو جو نہ تمہیں کچھ فائدہ دے سکیں اور نقصان پہنچا سکیں؟

﴿۶۷﴾ تف ہے تم پر اور جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو ان پر بھی کیا تم عقل نہیں رکھتے؟

﴿۶۸﴾ (تب وہ) کہنے لگے کہ اگر تمہیں (اس سے اپنے معبود کا انتقام لینا اور) کچھ کرنا ہے تو اس کو جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو

﴿۶۹﴾ ہم نے حکم دیا اے آگ سرد ہوجا اور ابراہیم پر (موجب) سلامتی (بن جا)

﴿۷۰﴾ اور ان لوگوں نے برا تو ان کا چاہا تھا مگر ہم نے ان ہی کو نقصان میں ڈال دیا

﴿۷۱﴾ اور ابراہیم اور لوط کو اس سرزمین کی طرف بچا نکالا جس میں ہم نے اہل عالم کے لئے برکت رکھی تھی

﴿۷۲﴾ اور ہم نے ابراہیم کو اسحق عطا کئے۔ اور مستزاد برآں یعقوب۔ اور سب کو نیک بخت کیا

﴿۷۳﴾ اور ان کو پیشوا بنایا کہ ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ان کو نیک کام کرنے اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے کا حکم بھیجا۔ اور وہ ہماری عبادت کیا کرتے تھے

﴿۷۴﴾ اور لوط (کا قصہ یاد کرو) جب ان کو ہم نے حکم (یعنی حکمت ونبوت) اور علم بخشا اور اس بستی سے جہاں کے لوگ گندے کام کیا کرتے تھے۔ بچا نکالا۔ بےشک وہ برے اور بدکردار لوگ تھے

﴿۷۵﴾ اور انہیں اپنی رحمت کے (محل میں) داخل کیا۔ کچھ شک نہیں کہ وہ نیک بختوں میں تھے

﴿۷۶﴾ اور نوح (کا قصہ بھی یاد کرو) جب (اس سے) پیشتر انہوں نے ہم کو پکارا تو ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کو اور ان کے ساتھیوں کو بڑی گھبراہٹ سے نجات دی

﴿۷۷﴾ اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے ان پر نصرت بخشی۔ وہ بےشک برے لوگ تھے سو ہم نے ان سب کو غرق کردیا

﴿۷۸﴾ اور داؤد اور سلیمان (کا حال بھی سن لو کہ) جب وہ ایک کھیتی کا مقدمہ فیصلہ کرنے لگے جس میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو چر گئی (اور اسے روند گئی) تھیں اور ہم ان کے فیصلے کے وقت موجود تھے

﴿۷۹﴾ تو ہم نے فیصلہ (کرنے کا طریق) سلیمان کو سمجھا دیا۔ اور ہم نے دونوں کو حکم (یعنی حکمت ونبوت) اور علم بخشا تھا۔ اور ہم نے پہاڑوں کو داؤد کا مسخر کردیا تھا کہ ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے اور جانوروں کو بھی (مسخر کردیا تھا اور ہم ہی ایسا) کرنے والے تھے

﴿۸۰﴾ اور ہم نے تمہارے لئے ان کو ایک (طرح) کا لباس بنانا بھی سکھا دیا تاکہ تم کو لڑائی (کے ضرر) سے بچائے۔ پس تم کو شکرگزار ہونا چاہیئے

﴿۸۱﴾ اور ہم نے تیز ہوا سلیمان کے تابع (فرمان) کردی تھی جو ان کے حکم سے اس ملک میں چلتی تھی جس میں ہم نے برکت دی تھی (یعنی شام) اور ہم ہر چیز سے خبردار ہیں

﴿۸۲﴾ اور دیوؤں (کی جماعت کو بھی ان کے تابع کردیا تھا کہ ان) میں سے بعض ان کے لئے غوطے مارتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کے نگہبان تھے

﴿۸۳﴾ اور ایوب کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے ایذا ہو رہی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے

﴿۸۴﴾ تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو ان کو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ان کو بال بچے بھی عطا فرمائے اور اپنی مہربانی کے ساتھ اتنے ہی اور (بخشے) اور عبادت کرنے والوں کے لئے (یہ) نصیحت ہے

﴿۸۵﴾ اور اسمٰعیل اور ادریس اور ذوالکفل (کو بھی یاد کرو) یہ سب صبر کرنے والے تھے

﴿۸۶﴾ اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا۔ بلاشبہ وہ نیکوکار تھے

﴿۸۷﴾ اور ذوالنون (کو یاد کرو) جب وہ (اپنی قوم سے ناراض ہو کر) غصے کی حالت میں چل دیئے اور خیال کیا کہ ہم ان پر قابو نہیں پاسکیں گے۔ آخر اندھیرے میں (خدا کو) پکارنے لگے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو پاک ہے (اور) بےشک میں قصوروار ہوں

﴿۸۸﴾ تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو غم سے نجات بخشی۔ اور ایمان والوں کو ہم اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں

﴿۸۹﴾ اور زکریا (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ پروردگار مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے

﴿۹۰﴾ تو ہم نے ان کی پکار سن لی۔ اور ان کو یحییٰ بخشے اور ان کی بیوی کو اُن کے (حسن معاشرت کے) قابل بنادیا۔ یہ لوگ لپک لپک کر نیکیاں کرتے اور ہمیں امید سے پکارتے اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے

﴿۹۱﴾ اور ان (مریم) کو (بھی یاد کرو) جنہوں نے اپنی عفّت کو محفوظ رکھا۔ تو ہم نے ان میں اپنی روح پھونک دی اور ان کے بیٹے کو اہل عالم کے لئے نشانی بنا دیا

﴿۹۲﴾ یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو

﴿۹۳﴾ اور یہ لوگ اپنے معاملے میں باہم متفرق ہوگئے۔ (مگر) سب ہماری طرف رجوع کرنے والے ہیں

﴿۹۴﴾ جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کی کوشش رائیگاں نہ جائے گی۔ اور ہم اس کے لئے (ثواب اعمال) لکھ رہے ہیں

﴿۹۵﴾ اور جس بستی (والوں) کو ہم نے ہلاک کردیا محال ہے کہ (وہ دنیا کی طرف رجوع کریں) وہ رجوع نہیں کریں گے

﴿۹۶﴾ یہاں تک کہ یاجوج ماجوج کھول دیئے جائیں اور وہ ہر بلندی سے دوڑ رہے ہوں

﴿۹۷﴾ اور (قیامت کا) سچا وعدہ قریب آجائے تو ناگاہ کافروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں (اور کہنے لگیں کہ) ہائے شامت ہم اس (حال) سے غفلت میں رہے بلکہ (اپنے حق میں) ظالم تھے

﴿۹۸﴾ (کافرو اس روز) تم اور جن کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہوں گے۔ اور تم سب اس میں داخل ہو کر رہو گے

﴿۹۹﴾ اگر یہ لوگ (درحقیقت) معبود ہوتے تو اس میں داخل نہ ہوتے۔ سب اس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے

﴿۱۰۰﴾ وہاں ان کو چلاّنا ہوگا اور اس میں (کچھ) نہ سن سکیں گے

﴿۱۰۱﴾ جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے پہلے بھلائی مقرر ہوچکی ہے۔ وہ اس سے دور رکھے جائیں گے

﴿۱۰۲﴾ (یہاں تک کہ) اس کی آواز بھی تو نہیں سنیں گے۔ اور جو کچھ ان کا جی چاہے گا اس میں (یعنی) ہر طرح کے عیش اور لطف میں ہمیشہ رہیں گے

﴿۱۰۳﴾ ان کو (اس دن کا) بڑا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا۔ اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے (اور کہیں گے کہ) یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے

﴿۱۰۴﴾ جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ لیں گے جیسے خطوں کا طومار لپیٹ لیتے ہیں۔ جس طرح ہم نے (کائنات کو) پہلے پیدا کیا اسی طرح دوبارہ پیدا کردیں گے۔ (یہ) وعدہ (جس کا پورا کرنا لازم) ہے۔ ہم (ایسا) ضرور کرنے والے ہیں

﴿۱۰۵﴾ اور ہم نے نصیحت (کی کتاب یعنی تورات) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ میرے نیکوکار بندے ملک کے وارث ہوں گے

﴿۱۰۶﴾ عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں (خدا کے حکموں کی) تبلیغ ہے

﴿۱۰۷﴾ اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو تمام جہان کے لئے رحمت (بنا کر) بھیجا ہے

﴿۱۰۸﴾ کہہ دو کہ مجھ پر (خدا کی طرح سے) یہ وحی آتی ہے کہ تم سب کا معبود خدائے واحد ہے۔ تو تم کو چاہیئے کہ فرمانبردار بن جاؤ

﴿۱۰۹﴾ اگر یہ لوگ منہ پھیریں تو کہہ دو کہ میں نے تم کو سب کو یکساں (احکام الہیٰ سے) آگاہ کردیا ہے۔ اور مجھ کو معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ (عن) قریب (آنے والی) ہے یا (اس کا وقت) دور ہے

﴿۱۱۰﴾ اور جو بات پکار کی جائے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو تم پوشیدہ کرتے ہو اس سے بھی واقف ہے

﴿۱۱۱﴾ اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لئے آزمائش ہو اور ایک مدت تک (تم اس سے) فائدہ (اٹھاتے رہو)

﴿۱۱۲﴾ پیغمبر نے کہا کہ اے میرے پروردگار حق کے ساتھ فیصلہ کردے۔ اور ہمارا پروردگار بڑا مہربان ہے اسی سے ان باتوں میں جو تم بیان کرتے ہو مدد مانگی جاتی ہے

Surah Al-Anbiya Tafseer in Urdu Audio MP3

Browse Surah Al-Anbiya Ayat by Ayat - سورة الأنبياء کی مزید آیات

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 1

سورة الأنبياء آیت نمبر 1

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 2

سورة الأنبياء آیت نمبر 2

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 3

سورة الأنبياء آیت نمبر 3

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 4

سورة الأنبياء آیت نمبر 4

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 5

سورة الأنبياء آیت نمبر 5

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 6

سورة الأنبياء آیت نمبر 6

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 7

سورة الأنبياء آیت نمبر 7

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 8

سورة الأنبياء آیت نمبر 8

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 9

سورة الأنبياء آیت نمبر 9

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 10

سورة الأنبياء آیت نمبر 10

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 11

سورة الأنبياء آیت نمبر 11

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 12

سورة الأنبياء آیت نمبر 12

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 13

سورة الأنبياء آیت نمبر 13

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 14

سورة الأنبياء آیت نمبر 14

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 15

سورة الأنبياء آیت نمبر 15

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 16

سورة الأنبياء آیت نمبر 16

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 17

سورة الأنبياء آیت نمبر 17

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 18

سورة الأنبياء آیت نمبر 18

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 19

سورة الأنبياء آیت نمبر 19

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 20

سورة الأنبياء آیت نمبر 20

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 21

سورة الأنبياء آیت نمبر 21

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 22

سورة الأنبياء آیت نمبر 22

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 23

سورة الأنبياء آیت نمبر 23

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 24

سورة الأنبياء آیت نمبر 24

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 25

سورة الأنبياء آیت نمبر 25

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 26

سورة الأنبياء آیت نمبر 26

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 27

سورة الأنبياء آیت نمبر 27

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 28

سورة الأنبياء آیت نمبر 28

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 29

سورة الأنبياء آیت نمبر 29

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 30

سورة الأنبياء آیت نمبر 30

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 31

سورة الأنبياء آیت نمبر 31

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 32

سورة الأنبياء آیت نمبر 32

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 33

سورة الأنبياء آیت نمبر 33

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 34

سورة الأنبياء آیت نمبر 34

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 35

سورة الأنبياء آیت نمبر 35

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 36

سورة الأنبياء آیت نمبر 36

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 37

سورة الأنبياء آیت نمبر 37

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 38

سورة الأنبياء آیت نمبر 38

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 39

سورة الأنبياء آیت نمبر 39

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 40

سورة الأنبياء آیت نمبر 40

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 41

سورة الأنبياء آیت نمبر 41

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 42

سورة الأنبياء آیت نمبر 42

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 43

سورة الأنبياء آیت نمبر 43

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 44

سورة الأنبياء آیت نمبر 44

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 45

سورة الأنبياء آیت نمبر 45

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 46

سورة الأنبياء آیت نمبر 46

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 47

سورة الأنبياء آیت نمبر 47

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 48

سورة الأنبياء آیت نمبر 48

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 49

سورة الأنبياء آیت نمبر 49

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 50

سورة الأنبياء آیت نمبر 50

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 51

سورة الأنبياء آیت نمبر 51

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 52

سورة الأنبياء آیت نمبر 52

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 53

سورة الأنبياء آیت نمبر 53

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 54

سورة الأنبياء آیت نمبر 54

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 55

سورة الأنبياء آیت نمبر 55

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 56

سورة الأنبياء آیت نمبر 56

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 57

سورة الأنبياء آیت نمبر 57

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 58

سورة الأنبياء آیت نمبر 58

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 59

سورة الأنبياء آیت نمبر 59

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 60

سورة الأنبياء آیت نمبر 60

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 61

سورة الأنبياء آیت نمبر 61

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 62

سورة الأنبياء آیت نمبر 62

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 63

سورة الأنبياء آیت نمبر 63

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 64

سورة الأنبياء آیت نمبر 64

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 65

سورة الأنبياء آیت نمبر 65

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 66

سورة الأنبياء آیت نمبر 66

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 67

سورة الأنبياء آیت نمبر 67

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 68

سورة الأنبياء آیت نمبر 68

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 69

سورة الأنبياء آیت نمبر 69

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 70

سورة الأنبياء آیت نمبر 70

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 71

سورة الأنبياء آیت نمبر 71

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 72

سورة الأنبياء آیت نمبر 72

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 73

سورة الأنبياء آیت نمبر 73

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 74

سورة الأنبياء آیت نمبر 74

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 75

سورة الأنبياء آیت نمبر 75

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 76

سورة الأنبياء آیت نمبر 76

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 77

سورة الأنبياء آیت نمبر 77

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 78

سورة الأنبياء آیت نمبر 78

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 79

سورة الأنبياء آیت نمبر 79

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 80

سورة الأنبياء آیت نمبر 80

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 81

سورة الأنبياء آیت نمبر 81

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 82

سورة الأنبياء آیت نمبر 82

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 83

سورة الأنبياء آیت نمبر 83

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 84

سورة الأنبياء آیت نمبر 84

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 85

سورة الأنبياء آیت نمبر 85

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 86

سورة الأنبياء آیت نمبر 86

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 87

سورة الأنبياء آیت نمبر 87

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 88

سورة الأنبياء آیت نمبر 88

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 89

سورة الأنبياء آیت نمبر 89

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 90

سورة الأنبياء آیت نمبر 90

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 91

سورة الأنبياء آیت نمبر 91

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 92

سورة الأنبياء آیت نمبر 92

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 93

سورة الأنبياء آیت نمبر 93

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 94

سورة الأنبياء آیت نمبر 94

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 95

سورة الأنبياء آیت نمبر 95

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 96

سورة الأنبياء آیت نمبر 96

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 97

سورة الأنبياء آیت نمبر 97

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 98

سورة الأنبياء آیت نمبر 98

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 99

سورة الأنبياء آیت نمبر 99

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 100

سورة الأنبياء آیت نمبر 100

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 101

سورة الأنبياء آیت نمبر 101

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 102

سورة الأنبياء آیت نمبر 102

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 103

سورة الأنبياء آیت نمبر 103

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 104

سورة الأنبياء آیت نمبر 104

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 105

سورة الأنبياء آیت نمبر 105

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 106

سورة الأنبياء آیت نمبر 106

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 107

سورة الأنبياء آیت نمبر 107

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 108

سورة الأنبياء آیت نمبر 108

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 109

سورة الأنبياء آیت نمبر 109

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 110

سورة الأنبياء آیت نمبر 110

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 111

سورة الأنبياء آیت نمبر 111

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya Ayat No 112

سورة الأنبياء آیت نمبر 112

Your Comments/Thoughts ?

Read & Listen Surah Al-Anbiya with Urdu Translation سورة الأنبياء - Download Surah Al-Anbiya MP3 Audio Quran Online Free. Al-Anbiya Urdu translation by Moulana Fateh Muhammad Jalandari. Read Surah Al-Anbiya with Urdu translation, tilawat by Shaikh Abd-ur Rahman As-Sudais & Shaikh Su'ood As-Shuraim with Urdu translation text.

  • Surah No: 21
  • Al-Anbiya
  • Arabic: سورة الأنبياء
  • (سورة الأنبياء) Al-Anbiya Meaning in English: The Prophets
  • سورة الأنبياء اردو میں
  • سورة الأنبياء mp3
  • سورة الأنبياء pdf

Read Quran Urdu Tarjuma with free download Holy Quran Urdu PDF. Moreover, you can also read and listen Quran Urdu tafseer by great Scholars at Darsaal. Quran Tilawat videos are also available here.