Surah Al-Anbiya Tafseer In Urdu - Audio MP3 and PDF

سورة الأنبياء کی تفسیر

Surah Al-Anbiya Tafseer in Urdu - Surah Al-Anbiya is Meccan Surah and also called Makki Surah of Quran e Pak. You can listen Surah Al-Anbiya tafseer in Urdu by Dr Asrar Ahmed. Download Full Surah Al-Anbiya audio tafseer mp3 ayat by ayat.
Para / Chapter 17
Surah Name Al-Anbiya
Classification Meccan - Makki Surah
Surah No. 21
Download Click here to Download Surah Al-Anbiya Audio MP3

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

لوگوں کا حساب (اعمال کا وقت) نزدیک آپہنچا ہے اور وہ غفلت میں (پڑے اس سے) منہ پھیر رہے ہیں﴿۱﴾ ان کے پاس کوئی نئی نصیحت ان کے پروردگار کی طرف سے نہیں آتی مگر وہ اسے کھیلتے ہوئے سنتے ہیں﴿۲﴾ ان کے دل غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ظالم لوگ (آپس میں) چپکے چپکے باتیں کرتے ہیں کہ یہ (شخص کچھ بھی) نہیں مگر تمہارے جیسا آدمی ہے۔ تو تم آنکھوں دیکھتے جادو (کی لپیٹ) میں کیوں آتے ہو﴿۳﴾ (پیغمبر نے) کہا کہ جو بات آسمان اور زمین میں (کہی جاتی) ہے میرا پروردگار اسے جانتا ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے﴿۴﴾ بلکہ (ظالم) کہنے لگے کہ (یہ قرآن) پریشان (باتیں ہیں جو) خواب (میں دیکھ لی) ہیں۔ (نہیں) بلکہ اس نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے (نہیں) بلکہ (یہ شعر ہے جو اس) شاعر (کا نتیجہٴ طبع) ہے۔ تو جیسے پہلے (پیغمبر نشانیاں دے کر) بھیجے گئے تھے (اسی طرح) یہ بھی ہمارے پاس کوئی نشانی لائے﴿۵﴾ ان سے پہلے جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا وہ ایمان نہیں لاتی تھیں۔ تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے﴿۶﴾ اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی (پیغمبر بنا کر) بھیجے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد رکھتے ہیں ان سے پوچھ لو﴿۷﴾ اور ہم نے ان کے لئے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے﴿۸﴾ پھر ہم نے ان کے بارے میں (اپنا) وعدہ سچا کردیا تو ان کو اور جس کو چاہا نجات دی اور حد سے نکل جانے والوں کو ہلاک کردیا﴿۹﴾ ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے۔ کیا تم نہیں سمجھتے﴿۱۰﴾ اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو ستمگار تھیں ہلاک کر مارا اور ان کے بعد اور لوگ پیدا کردیئے﴿۱۱﴾ جب انہوں نے ہمارے (مقدمہ) عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے﴿۱۲﴾ مت بھاگو اور جن (نعمتوں) میں تم عیش وآسائش کرتے تھے ان کی اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ۔ شاید تم سے (اس بارے میں) دریافت کیا جائے﴿۱۳﴾ کہنے لگے ہائے شامت بےشک ہم ظالم تھے﴿۱۴﴾ تو وہ ہمیشہ اسی طرح پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو (کھیتی کی طرح) کاٹ کر (اور آگ کی طرح) بجھا کر ڈھیر کردیا﴿۱۵﴾ اور ہم نے آسمان اور زمین کو جو اور (مخلوقات) ان دونوں کے درمیان ہے اس کو لہوولعب کے لئے پیدا نہیں کیا﴿۱۶﴾ اگر ہم چاہتے کہ کھیل (کی چیزیں یعنی زن وفرزند) بنائیں تو اگر ہم کو کرنا ہوتا تو ہم اپنے پاس سے بنالیتے﴿۱۷﴾ بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں تو وہ اس کا سر توڑ دیتا ہے اور جھوٹ اسی وقت نابود ہوجاتا ہے۔ اور جو باتیں تم بناتے ہو ان سے تمہاری ہی خرابی ہے﴿۱۸﴾ اور جو لوگ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہیں سب اسی کے (مملوک اور اُسی کا مال) ہیں۔ اور جو (فرشتے) اُس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے نہ کنیاتے ہیں اور نہ اکتاتے ہیں﴿۱۹﴾ رات دن (اُس کی) تسبیح کرتے رہتے ہیں (نہ تھکتے ہیں) نہ اکتاتے ہیں﴿۲۰﴾ بھلا لوگوں نے جو زمین کی چیزوں سے (بعض کو) معبود بنا لیا ہے (تو کیا) وہ ان کو (مرنے کے بعد) اُٹھا کھڑا کریں گے؟﴿۲۱﴾ اگر آسمان اور زمین میں خدا کے سوا اور معبود ہوتے تو زمین وآسمان درہم برہم ہوجاتے۔ جو باتیں یہ لوگ بتاتے ہیں خدائے مالک عرش ان سے پاک ہے﴿۲۲﴾ وہ جو کام کرتا ہے اس کی پرستش نہیں ہوگی اور (جو کام یہ لوگ کرتے ہیں اس کی) ان سے پرستش ہوگی﴿۲۳﴾ کیا لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر اور معبود بنالئے ہیں۔ کہہ دو کہ (اس بات پر) اپنی دلیل پیش کرو۔ یہ (میری اور) میرے ساتھ والوں کی کتاب بھی ہے اور جو مجھ سے پہلے (پیغمبر) ہوئے ہیں۔ ان کی کتابیں بھی ہیں۔ بلکہ (بات یہ ہے کہ) ان اکثر حق بات کو نہیں جانتے اور اس لئے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں﴿۲۴﴾ اور جو پیغمبر ہم نےتم سے پہلے بھیجے ان کی طرف یہی وحی بھیجی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری ہی عبادت کرو﴿۲۵﴾ اور کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے۔ وہ پاک ہے (اس کے نہ بیٹا ہے نہ بیٹی) بلکہ (جن کو یہ لوگ اس کے بیٹے بیٹیاں سمجھتے ہیں) وہ اس کے عزت والے بندے ہیں﴿۲۶﴾ اس کے آگے بڑھ کر بول نہیں سکتے۔ اور اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں﴿۲۷﴾ جو کچھ ان کے آگے ہوچکا ہے اور پیچھے ہوگا وہ سب سے واقف ہے اور وہ (اس کے پاس کسی کی) سفارش نہیں کرسکتے مگر اس شخص کی جس سے خدا خوش ہو اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں﴿۲۸﴾ اور جو شخص ان میں سے یہ کہے کہ خدا کے سوا میں معبود ہوں تو اسے ہم دوزخ کی سزا دیں گے اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں﴿۲۹﴾ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟﴿۳۰﴾ اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ لوگوں (کے بوجھ) سے ہلنے (اور جھکنے) نہ لگے اور اس میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ ان پر چلیں﴿۳۱﴾ اور آسمان کو محفوظ چھت بنایا۔ اس پر بھی وہ ہماری نشانیوں سے منہ پھیر رہے ہیں﴿۳۲﴾ اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو بنایا۔ (یہ) سب (یعنی سورج اور چاند اور ستارے) آسمان میں (اس طرح چلتے ہیں گویا) تیر رہے ہیں﴿۳۳﴾ اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کو بقائے دوام نہیں بخشا۔ بھلا اگر تم مرجاؤ تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے﴿۳۴﴾ ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے۔ اور ہم تو لوگوں کو سختی اور آسودگی میں آزمائش کے طور پر مبتلا کرتے ہیں۔ اور تم ہماری طرف ہی لوٹ کر آؤ گے﴿۳۵﴾ اور جب کافر تم کو دیکھتے ہیں تو تم سے استہزاء کرتے ہیں کہ کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر (برائی سے) کیا کرتا ہے حالانکہ وہ خود رحمٰن کے نام سے منکر ہیں﴿۳۶﴾ انسان (کچھ ایسا جلد باز ہے کہ گویا) جلد بازی ہی سے بنایا گیا ہے۔ میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھاؤں گا تو تم جلدی نہ کرو﴿۳۷﴾ اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعید (ہے وہ) کب (آئے گا)؟﴿۳۸﴾ اے کاش کافر اس وقت کو جانیں جب وہ اپنے مونہوں پر سے (دوزخ کی) آگ کو روک نہ سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں پر سے اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا﴿۳۹﴾ بلکہ قیامت ان پر ناگہاں آ واقع ہوگی۔ اور ان کے ہوش کھو دے گی۔ پھر نہ تو وہ اس کو ہٹا سکیں گے اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی﴿۴۰﴾ اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ استہزاء ہوتا رہا ہے تو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو اسی (عذاب) نے جس کی ہنسی اُڑاتے تھے آگھیرا﴿۴۱﴾ کہو کہ رات اور دن میں خدا سے تمہاری کون حفاظت کرسکتا ہے؟ بات یہ ہے کہ اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیرے ہوئے ہیں﴿۴۲﴾ کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو (مصائب سے) بچاسکیں۔ وہ آپ اپنی مدد تو کر ہی نہیں سکتے اور نہ ہم سے پناہ ہی دیئے جائیں گے﴿۴۳﴾ بلکہ ہم ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتے رہے یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ان کی عمریں بسر ہوگئیں۔ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں۔ تو کیا یہ لوگ غلبہ پانے والے ہیں؟﴿۴۴﴾ کہہ دو کہ میں تم کو حکم خدا کے مطابق نصیحت کرتا ہوں۔ اور بہروں کوجب نصیحت کی جائے تو وہ پکار کر سنتے ہی نہیں﴿۴۵﴾ اور اگر ان کو تمہارے پروردگار کا تھوڑا سا عذاب بھی پہنچے تو کہنے لگیں کہ ہائے کم بختی ہم بےشک ستمگار تھے﴿۴۶﴾ اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو کھڑی کریں گے تو کسی شخص کی ذرا بھی حق تلفی نہ کی جائے گی۔ اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی (کسی کا عمل) ہوگا تو ہم اس کو لاحاضر کریں گے۔ اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیں﴿۴۷﴾ اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو (ہدایت اور گمراہی میں) فرق کر دینے والی اور (سرتاپا) روشنی اور نصیحت (کی کتاب) عطا کی (یعنی) پرہیز گاروں کے لئے﴿۴۸﴾ جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور قیامت کا بھی خوف رکھتے ہیں﴿۴۹﴾ یہ مبارک نصیحت ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے تو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو؟﴿۵۰﴾ اور ہم نے ابراہیمؑ کو پہلے ہی سے ہدایت دی تھی اور ہم ان کے حال سے واقف تھے﴿۵۱﴾ جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا یہ کیا مورتیں ہیں جن (کی پرستش) پر تم معتکف (وقائم) ہو؟﴿۵۲﴾ وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی پرستش کرتے دیکھا ہے﴿۵۳﴾ (ابراہیم نے) کہا کہ تم بھی (گمراہ ہو) اور تمہارے باپ دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے رہے﴿۵۴﴾ وہ بولے کیا تم ہمارے پاس (واقعی) حق لائے ہو یا (ہم سے) کھیل (کی باتیں) کرتے ہو؟﴿۵۵﴾ (ابراہیم نے) کہا (نہیں) بلکہ تمہارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے جس نے ان کو پیدا کیا ہے۔ اور میں اس (بات) کا گواہ (اور اسی کا قائل) ہوں﴿۵۶﴾ اور خدا کی قسم جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو میں تمہارے بتوں سے ایک چال چلوں گا﴿۵۷﴾ پھر ان کو توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا مگر ایک بڑے (بت) کو (نہ توڑا) تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں﴿۵۸﴾ کہنے لگے کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا؟ وہ تو کوئی ظالم ہے﴿۵۹﴾ لوگوں نے کہا کہ ہم نے ایک جوان کو ان کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے اس کو ابراہیم کہتے ہیں﴿۶۰﴾ وہ بولے کہ اسے لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ گواہ رہیں﴿۶۱﴾ (جب ابراہیم آئے تو) بت پرستوں نے کہا کہ ابراہیم بھلا یہ کام ہمارے معبودوں کے ساتھ تم نے کیا ہے؟﴿۶۲﴾ (ابراہیم نے) کہا (نہیں) بلکہ یہ ان کے اس بڑے (بت) نے کیا (ہوگا)۔ اگر یہ بولتے ہیں تو ان سے پوچھ لو﴿۶۳﴾ انہوں نے اپنے دل غور کیا تو آپس میں کہنے لگے بےشک تم ہی بےانصاف ہو﴿۶۴﴾ پھر (شرمندہ ہو کر) سر نیچا کرلیا (اس پر بھی ابراہیم سے کہنے لگے کہ) تم جانتے ہو یہ بولتے نہیں﴿۶۵﴾ (ابراہیم نے) کہا پھر تم خدا کو چھوڑ کر کیوں ایسی چیزوں کو پوجتے ہو جو نہ تمہیں کچھ فائدہ دے سکیں اور نقصان پہنچا سکیں؟﴿۶۶﴾ تف ہے تم پر اور جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو ان پر بھی کیا تم عقل نہیں رکھتے؟﴿۶۷﴾ (تب وہ) کہنے لگے کہ اگر تمہیں (اس سے اپنے معبود کا انتقام لینا اور) کچھ کرنا ہے تو اس کو جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو﴿۶۸﴾ ہم نے حکم دیا اے آگ سرد ہوجا اور ابراہیم پر (موجب) سلامتی (بن جا)﴿۶۹﴾ اور ان لوگوں نے برا تو ان کا چاہا تھا مگر ہم نے ان ہی کو نقصان میں ڈال دیا﴿۷۰﴾ اور ابراہیم اور لوط کو اس سرزمین کی طرف بچا نکالا جس میں ہم نے اہل عالم کے لئے برکت رکھی تھی﴿۷۱﴾ اور ہم نے ابراہیم کو اسحق عطا کئے۔ اور مستزاد برآں یعقوب۔ اور سب کو نیک بخت کیا﴿۷۲﴾ اور ان کو پیشوا بنایا کہ ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ان کو نیک کام کرنے اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے کا حکم بھیجا۔ اور وہ ہماری عبادت کیا کرتے تھے﴿۷۳﴾ اور لوط (کا قصہ یاد کرو) جب ان کو ہم نے حکم (یعنی حکمت ونبوت) اور علم بخشا اور اس بستی سے جہاں کے لوگ گندے کام کیا کرتے تھے۔ بچا نکالا۔ بےشک وہ برے اور بدکردار لوگ تھے﴿۷۴﴾ اور انہیں اپنی رحمت کے (محل میں) داخل کیا۔ کچھ شک نہیں کہ وہ نیک بختوں میں تھے﴿۷۵﴾ اور نوح (کا قصہ بھی یاد کرو) جب (اس سے) پیشتر انہوں نے ہم کو پکارا تو ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کو اور ان کے ساتھیوں کو بڑی گھبراہٹ سے نجات دی﴿۷۶﴾ اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے ان پر نصرت بخشی۔ وہ بےشک برے لوگ تھے سو ہم نے ان سب کو غرق کردیا﴿۷۷﴾ اور داؤد اور سلیمان (کا حال بھی سن لو کہ) جب وہ ایک کھیتی کا مقدمہ فیصلہ کرنے لگے جس میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو چر گئی (اور اسے روند گئی) تھیں اور ہم ان کے فیصلے کے وقت موجود تھے﴿۷۸﴾ تو ہم نے فیصلہ (کرنے کا طریق) سلیمان کو سمجھا دیا۔ اور ہم نے دونوں کو حکم (یعنی حکمت ونبوت) اور علم بخشا تھا۔ اور ہم نے پہاڑوں کو داؤد کا مسخر کردیا تھا کہ ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے اور جانوروں کو بھی (مسخر کردیا تھا اور ہم ہی ایسا) کرنے والے تھے﴿۷۹﴾ اور ہم نے تمہارے لئے ان کو ایک (طرح) کا لباس بنانا بھی سکھا دیا تاکہ تم کو لڑائی (کے ضرر) سے بچائے۔ پس تم کو شکرگزار ہونا چاہیئے﴿۸۰﴾ اور ہم نے تیز ہوا سلیمان کے تابع (فرمان) کردی تھی جو ان کے حکم سے اس ملک میں چلتی تھی جس میں ہم نے برکت دی تھی (یعنی شام) اور ہم ہر چیز سے خبردار ہیں﴿۸۱﴾ اور دیوؤں (کی جماعت کو بھی ان کے تابع کردیا تھا کہ ان) میں سے بعض ان کے لئے غوطے مارتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کے نگہبان تھے﴿۸۲﴾ اور ایوب کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے ایذا ہو رہی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے﴿۸۳﴾ تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو ان کو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ان کو بال بچے بھی عطا فرمائے اور اپنی مہربانی کے ساتھ اتنے ہی اور (بخشے) اور عبادت کرنے والوں کے لئے (یہ) نصیحت ہے﴿۸۴﴾ اور اسمٰعیل اور ادریس اور ذوالکفل (کو بھی یاد کرو) یہ سب صبر کرنے والے تھے﴿۸۵﴾ اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا۔ بلاشبہ وہ نیکوکار تھے﴿۸۶﴾ اور ذوالنون (کو یاد کرو) جب وہ (اپنی قوم سے ناراض ہو کر) غصے کی حالت میں چل دیئے اور خیال کیا کہ ہم ان پر قابو نہیں پاسکیں گے۔ آخر اندھیرے میں (خدا کو) پکارنے لگے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو پاک ہے (اور) بےشک میں قصوروار ہوں﴿۸۷﴾ تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو غم سے نجات بخشی۔ اور ایمان والوں کو ہم اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں﴿۸۸﴾ اور زکریا (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ پروردگار مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے﴿۸۹﴾ تو ہم نے ان کی پکار سن لی۔ اور ان کو یحییٰ بخشے اور ان کی بیوی کو اُن کے (حسن معاشرت کے) قابل بنادیا۔ یہ لوگ لپک لپک کر نیکیاں کرتے اور ہمیں امید سے پکارتے اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے﴿۹۰﴾ اور ان (مریم) کو (بھی یاد کرو) جنہوں نے اپنی عفّت کو محفوظ رکھا۔ تو ہم نے ان میں اپنی روح پھونک دی اور ان کے بیٹے کو اہل عالم کے لئے نشانی بنا دیا﴿۹۱﴾ یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو﴿۹۲﴾ اور یہ لوگ اپنے معاملے میں باہم متفرق ہوگئے۔ (مگر) سب ہماری طرف رجوع کرنے والے ہیں﴿۹۳﴾ جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کی کوشش رائیگاں نہ جائے گی۔ اور ہم اس کے لئے (ثواب اعمال) لکھ رہے ہیں﴿۹۴﴾ اور جس بستی (والوں) کو ہم نے ہلاک کردیا محال ہے کہ (وہ دنیا کی طرف رجوع کریں) وہ رجوع نہیں کریں گے﴿۹۵﴾ یہاں تک کہ یاجوج ماجوج کھول دیئے جائیں اور وہ ہر بلندی سے دوڑ رہے ہوں﴿۹۶﴾ اور (قیامت کا) سچا وعدہ قریب آجائے تو ناگاہ کافروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں (اور کہنے لگیں کہ) ہائے شامت ہم اس (حال) سے غفلت میں رہے بلکہ (اپنے حق میں) ظالم تھے﴿۹۷﴾ (کافرو اس روز) تم اور جن کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہوں گے۔ اور تم سب اس میں داخل ہو کر رہو گے﴿۹۸﴾ اگر یہ لوگ (درحقیقت) معبود ہوتے تو اس میں داخل نہ ہوتے۔ سب اس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے﴿۹۹﴾ وہاں ان کو چلاّنا ہوگا اور اس میں (کچھ) نہ سن سکیں گے﴿۱۰۰﴾ جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے پہلے بھلائی مقرر ہوچکی ہے۔ وہ اس سے دور رکھے جائیں گے﴿۱۰۱﴾ (یہاں تک کہ) اس کی آواز بھی تو نہیں سنیں گے۔ اور جو کچھ ان کا جی چاہے گا اس میں (یعنی) ہر طرح کے عیش اور لطف میں ہمیشہ رہیں گے﴿۱۰۲﴾ ان کو (اس دن کا) بڑا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا۔ اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے (اور کہیں گے کہ) یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے﴿۱۰۳﴾ جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ لیں گے جیسے خطوں کا طومار لپیٹ لیتے ہیں۔ جس طرح ہم نے (کائنات کو) پہلے پیدا کیا اسی طرح دوبارہ پیدا کردیں گے۔ (یہ) وعدہ (جس کا پورا کرنا لازم) ہے۔ ہم (ایسا) ضرور کرنے والے ہیں﴿۱۰۴﴾ اور ہم نے نصیحت (کی کتاب یعنی تورات) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ میرے نیکوکار بندے ملک کے وارث ہوں گے﴿۱۰۵﴾ عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں (خدا کے حکموں کی) تبلیغ ہے﴿۱۰۶﴾ اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو تمام جہان کے لئے رحمت (بنا کر) بھیجا ہے﴿۱۰۷﴾ کہہ دو کہ مجھ پر (خدا کی طرح سے) یہ وحی آتی ہے کہ تم سب کا معبود خدائے واحد ہے۔ تو تم کو چاہیئے کہ فرمانبردار بن جاؤ﴿۱۰۸﴾ اگر یہ لوگ منہ پھیریں تو کہہ دو کہ میں نے تم کو سب کو یکساں (احکام الہیٰ سے) آگاہ کردیا ہے۔ اور مجھ کو معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ (عن) قریب (آنے والی) ہے یا (اس کا وقت) دور ہے﴿۱۰۹﴾ اور جو بات پکار کی جائے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو تم پوشیدہ کرتے ہو اس سے بھی واقف ہے﴿۱۱۰﴾ اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لئے آزمائش ہو اور ایک مدت تک (تم اس سے) فائدہ (اٹھاتے رہو)﴿۱۱۱﴾ پیغمبر نے کہا کہ اے میرے پروردگار حق کے ساتھ فیصلہ کردے۔ اور ہمارا پروردگار بڑا مہربان ہے اسی سے ان باتوں میں جو تم بیان کرتے ہو مدد مانگی جاتی ہے﴿۱۱۲﴾

Read Surah Al-Anbiya in Arabic Read Surah Al-Anbiya in English

Surah Al-Anbiya Tafseer in Urdu - سورة الأنبياء مع ترجمہ و تفسیر

Surah Al-Anbiya Tafseer in Urdu - Find Surah Al-Anbiya tafseer online in mp3 audio format. Al-Anbiya Urdu Tafseer by Dr Asrar Ahmed (Late).

You can listen Surah Al-Anbiya سورة الأنبياء tafseer in audio mp3 for better understanding.

You can read and recite Quran Al-Anbiya Urdu translation with tafseer so you can easily listen and read at same time.

  • Surah Number: 21
  • Surah Name (Roman Urdu): Al-Anbiya
  • Surah Name: سورة الأنبياء
  • Surah Name (English): The Prophets
You are listening Urdu tafseer of Surah Al-Anbiya, which is 21 no surah of Quran e Pak and also called Meccan or Makki Surah.

Read/Listen More Surah Tafseer In Urdu From Quran e Pak

سورة الفاتحة Surah Al-Fatiha

سورة الفاتحة

سورة البقرة Surah Al-Baqara

سورة البقرة

سورة آل عمران Surah Aal-e-Imran

سورة آل عمران

سورة النساء Surah An-Nisa

سورة النساء

سورة المائدة Surah Maidah

سورة المائدة

سورة الأنعام Surah Al-An'am

سورة الأنعام

سورة الأعراف Surah Al-A'raf

سورة الأعراف

سورة الأنفال Surah Al-Anfal

سورة الأنفال

سورة التوبة Surah Taubah

سورة التوبة

سورة يونس Surah Yunus

سورة يونس

سورة هود Surah Hud

سورة هود

سورة يوسف Surah Yusuf

سورة يوسف

سورة الرعد Surah Ar-Ra'd

سورة الرعد

سورة إبراهيم Surah Ibrahim

سورة إبراهيم

سورة الحجر Surah Al-Hijr

سورة الحجر

سورة النحل Surah An-Nahl

سورة النحل

سورة الإسراء Surah Al-Isra

سورة الإسراء

سورة الكهف Surah Al-Kahf

سورة الكهف

سورة مريم Surah Maryam

سورة مريم

سورة طه Surah Taha

سورة طه

سورة الأنبياء Surah Al-Anbiya

سورة الأنبياء

سورة الحج Surah Al-Hajj

سورة الحج

سورة المؤمنون Surah Al-Mu'minun

سورة المؤمنون

سورة النور Surah An-Nur

سورة النور

سورة الفرقان Surah Al-Furqan

سورة الفرقان

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara

سورة الشعراء

سورة النمل Surah An-Naml

سورة النمل

سورة القصص Surah Al-Qasas

سورة القصص

سورة العنكبوت Surah Al-Ankabut

سورة العنكبوت

سورة الروم Surah Ar-Rum

سورة الروم

سورة لقمان Surah Luqman

سورة لقمان

سورة السجدة Surah As-Sajdah

سورة السجدة

سورة الأحزاب Surah Al-Ahzab

سورة الأحزاب

سورة سبأ Surah Saba

سورة سبأ

سورة فاطر Surah Fatir

سورة فاطر

سورة يٰس Surah Yaseen

سورة يٰس

سورة الصافات Surah As-Saffat

سورة الصافات

سورة ص Surah Sad

سورة ص

سورة الزمر Surah Az-Zumar

سورة الزمر

سورة غافر Surah Ghafir/Momin

سورة غافر

سورة فصلت Surah Fussilat/Hameem Sajdah

سورة فصلت

سورة الشورى Surah Ash-Shura

سورة الشورى

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf

سورة الزخرف

سورة الدخان Surah Ad-Dukhan

سورة الدخان

سورة الجاثية Surah Al-Jathiyah

سورة الجاثية

سورة الأحقاف Surah Al-Ahqaf

سورة الأحقاف

سورة محمد Surah Muhammad

سورة محمد

سورة الفتح Surah Al-Fath

سورة الفتح

سورة الحجرات Surah Al-Hujurat

سورة الحجرات

سورة ق Surah Qaf

سورة ق

سورة الذاريات Surah Adh-Dhariyat

سورة الذاريات

سورة الطور Surah At-Tur

سورة الطور

سورة النجم Surah An-Najm

سورة النجم

سورة القمر Surah Al-Qamar

سورة القمر

سورة الرحمن Surah Ar-Rahman

سورة الرحمن

سورة الواقعة Surah Waqiah

سورة الواقعة

سورة الحديد Surah Al-Hadid

سورة الحديد

سورة المجادلة Surah Al-Mujadilah

سورة المجادلة

سورة الحشر Surah Al-Hashr

سورة الحشر

سورة الممتحنة Surah Al-Mumtahanah

سورة الممتحنة

سورة الصف Surah As-Saff

سورة الصف

سورة الجمعة Surah Al-Jumu'ah

سورة الجمعة

سورة المنافقون Surah Al-Munafiqun

سورة المنافقون

سورة التغابن Surah At-Taghabun

سورة التغابن

سورة الطلاق Surah At-Talaq

سورة الطلاق

سورة التحريم Surah At-Tahrim

سورة التحريم

سورة الملك Surah Al-Mulk

سورة الملك

سورة القلم Surah Al-Qalam

سورة القلم

سورة الحاقة Surah Al-Haaqqah

سورة الحاقة

سورة المعارج Surah Al-Ma'arij

سورة المعارج

سورة نوح Surah Nooh

سورة نوح

سورة الجن Surah Al-Jinn

سورة الجن

سورة المزمل Surah Al-Muzzammil

سورة المزمل

سورة المدثر Surah Al-Muddaththir

سورة المدثر

سورة القيامة Surah Al-Qiyamah

سورة القيامة

سورة الإنسان Surah Al-Insan

سورة الإنسان

سورة المرسلات Surah Al-Mursalat

سورة المرسلات

سورة النبأ Surah An-Naba

سورة النبأ

سورة النازعات Surah An-Nazi'at

سورة النازعات

سورة عبس Surah Abasa

سورة عبس

سورة التكوير Surah At-Takwir

سورة التكوير

سورة الإنفطار Surah Al-Infitar

سورة الإنفطار

سورة المطففين Surah Al-Mutaffifin

سورة المطففين

سورة الإنشقاق Surah Al-Inshiqaq

سورة الإنشقاق

سورة البروج Surah Al-Buruj

سورة البروج

سورة الطارق Surah At-Tariq

سورة الطارق

سورة الأعلى Surah Al-A'la

سورة الأعلى

سورة الغاشية Surah Al-Ghashiya

سورة الغاشية

سورة الفجر Surah Al-Fajr

سورة الفجر

سورة البلد Surah Al-Balad

سورة البلد

سورة الشمس Surah Ash-Shams

سورة الشمس

سورة الليل Surah Al-Layl

سورة الليل

سورة الضحى Surah Ad-Duha

سورة الضحى

سورة الشرح Surah As-Sharh

سورة الشرح

سورة التين Surah At-Tin

سورة التين

سورة العلق Surah Al-'alaq

سورة العلق

سورة القدر Surah Al-Qadr

سورة القدر

سورة البينة Surah Al-Bayyinah

سورة البينة

سورة الزلزلة Surah Az-Zalzalah

سورة الزلزلة

سورة العاديات Surah Al-'adiyat

سورة العاديات

سورة القارعة Surah Al-Qari'a

سورة القارعة

سورة التكاثر Surah At-Takathur

سورة التكاثر

سورة العصر Surah Al-Asr

سورة العصر

سورة الهمزة Surah Al-Humazah

سورة الهمزة

سورة الفيل Surah Al-Fil

سورة الفيل

سورة قريش Surah Quraish

سورة قريش

سورة الماعون Surah Al-Ma'un

سورة الماعون

سورة الكوثر Surah Al-Kauthar

سورة الكوثر

سورة الكافرون Surah Al-Kafirun

سورة الكافرون

سورة النصر Surah An-Nasr

سورة النصر

سورة المسد Surah Al-Masad

سورة المسد

سورة الإخلاص Surah Al-Ikhlas

سورة الإخلاص

سورة الفلق Surah Al-Falaq

سورة الفلق

سورة الناس Surah An-Nas

سورة الناس