Surah Ash-Shuara With Urdu Translation and MP3

سورة الشعراء

Read Surah Ash-Shuara with Urdu Translation - Surah Ash-Shuara is Meccan Surah and also called Makki Surah of Quran e Pak. You can read Surah Ash-Shuara with Urdu Translation and download mp3 Surah Ash-Shuara in your mobile and WhatsApp with voice of Surah Ash-Shuara Recited by Sheikh Abdur Rahman Al-Sudais & Sheikh Su'ud As-Shuraim. Read and Download Ash-Shuara Ayat by Ayat in Urdu Translation and Tafseer.
Para / Chapter 19
Surah Name Ash-Shuara
Classification Meccan - Makki Surah
Surah No. 26
Reciter Surah Ash-Shuara Recited By Sheikh Abdur Rahman Al-Sudais & Sheikh Su'ud As-Shuraim
Download Click here to Download Surah Ash-Shuara Audio MP3

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

﴿۱﴾ طٰسٓمٓ

﴿۲﴾ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں

﴿۳﴾ (اے پیغمبرﷺ) شاید تم اس (رنج) سے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے اپنے تئیں ہلاک کردو گے

﴿۴﴾ اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اُتار دیں۔ پھر ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں

﴿۵﴾ اور ان کے پاس (خدائے) رحمٰن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

﴿۶﴾ سو یہ تو جھٹلا چکے اب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوگی جس کی ہنسی اُڑاتے تھے

﴿۷﴾ کیا انہوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اُگائی ہیں

﴿۸﴾ کچھ شک نہیں کہ اس میں (قدرت خدا کی) نشانی ہے مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں

﴿۹﴾ اور تمہارا پروردگار غالب (اور) مہربان ہے

﴿۱۰﴾ اور جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو پکارا کہ ظالم لوگوں کے پاس جاؤ

﴿۱۱﴾ (یعنی) قوم فرعون کے پاس، کیا یہ ڈرتے نہیں

﴿۱۲﴾ انہوں نے کہا کہ میرے پروردگار میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں

﴿۱۳﴾ اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے تو ہارون کو حکم بھیج کہ میرے ساتھ چلیں

﴿۱۴﴾ اور ان لوگوں کا مجھ پر ایک گناہ (یعنی قبطی کے خون کا دعویٰ) بھی ہے سو مجھے یہ بھی خوف ہے کہ مجھ کو مار ہی ڈالیں

﴿۱۵﴾ فرمایا ہرگز نہیں۔ تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں

﴿۱۶﴾ تو دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہان کے مالک کے بھیجے ہوئے ہیں

﴿۱۷﴾ (اور اس لئے آئے ہیں) کہ آپ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دیں

﴿۱۸﴾ (فرعون نے موسیٰ سے کہا) کیا ہم نے تم کو کہ ابھی بچّے تھے پرورش نہیں کیا اور تم نے برسوں ہمارے ہاں عمر بسر (نہیں) کی

﴿۱۹﴾ اور تم نے وہ کام کیا تھا جو کیا اور تم ناشکرے معلوم ہوتے ہو

﴿۲۰﴾ (موسیٰ نے) کہاں (ہاں) وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں تھا

﴿۲۱﴾ تو جب مجھے تم سے ڈر لگا تو تم میں سے بھاگ گیا۔ پھر خدا نے مجھ کو نبوت وعلم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا

﴿۲۲﴾ اور (کیا) یہی احسان ہے جو آپ مجھ پر رکھتے ہیں کہ آپ نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے

﴿۲۳﴾ فرعون نے کہا کہ تمام جہان مالک کیا

﴿۲۴﴾ کہا کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک۔ بشرطیکہ تم لوگوں کو یقین ہو

﴿۲۵﴾ فرعون نے اپنے اہالی موالی سے کہا کہ کیا تم سنتے نہیں

﴿۲۶﴾ (موسیٰ نے) کہا کہ تمہارا اور تمہارے پہلے باپ دادا کا مالک

﴿۲۷﴾ (فرعون نے) کہا کہ (یہ) پیغمبر جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے باؤلا ہے

﴿۲۸﴾ موسیٰ نے کہا کہ مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک، بشرطیکہ تم کو سمجھ ہو

﴿۲۹﴾ (فرعون نے) کہا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تمہیں قید کردوں گا

﴿۳۰﴾ (موسیٰ نے) کہا خواہ میں آپ کے پاس روشن چیز لاؤں (یعنی معجزہ)

﴿۳۱﴾ فرعون نے کہا اگر سچے ہو تو اسے لاؤ (دکھاؤ)

﴿۳۲﴾ پس انہوں نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت صریح اژدہا بن گئی

﴿۳۳﴾ اور اپنا ہاتھ نکالا تو اسی دم دیکھنے والوں کے لئے سفید (براق نظر آنے لگا)

﴿۳۴﴾ فرعون نے اپنے گرد کے سرداروں سے کہا کہ یہ تو کامل فن جادوگر ہے

﴿۳۵﴾ چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو (کے زور) سے تمہارے ملک سے نکال دے تو تمہاری کیا رائے ہے؟

﴿۳۶﴾ انہوں نے کہا کہ اسے اور اس کے بھائی (کے بارے) میں کچھ توقف کیجیئے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیئے

﴿۳۷﴾ کہ سب ماہر جادوگروں کو (جمع کرکے) آپ کے پاس لے آئیں

﴿۳۸﴾ تو جادوگر ایک مقررہ دن کی میعاد پر جمع ہوگئے

﴿۳۹﴾ اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکھٹے ہو کر جانا چاہیئے

﴿۴۰﴾ تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہوجائیں

﴿۴۱﴾ جب جادوگر آگئے تو فرعون سے کہنے لگے اگر ہم غالب رہے تو ہمیں صلہ بھی عطا ہوگا؟

﴿۴۲﴾ فرعون نے کہا ہاں اور تم مقربوں میں بھی داخل کرلئے جاؤ گے

﴿۴۳﴾ موسیٰ نے ان سے کہا کہ جو چیز ڈالنی چاہتے ہو، ڈالو

﴿۴۴﴾ تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں اور کہنے لگے کہ فرعون کے اقبال کی قسم ہم ضرور غالب رہیں گے

﴿۴۵﴾ پھر موسیٰ نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ ان چیزوں کو جو جادوگروں نے بنائی تھیں یکایک نگلنے لگی

﴿۴۶﴾ تب جادوگر سجدے میں گر پڑے

﴿۴۷﴾ (اور) کہنے لگے کہ ہم تمام جہان کے مالک پر ایمان لے آئے

﴿۴۸﴾ جو موسیٰ اور ہارون کا مالک ہے

﴿۴۹﴾ فرعون نے کہا کیا اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے، بےشک یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔ سو عنقریب تم (اس کا انجام) معلوم کرلو گے کہ میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں اطراف مخالف سے کٹوا دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھوا دوں گا

﴿۵۰﴾ انہوں نے کہا کہ کچھ نقصان (کی بات) نہیں ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ جانے والے ہیں

﴿۵۱﴾ ہمیں امید ہے کہ ہمارا پروردگار ہمارے گناہ بخش دے گا۔ اس لئے کہ ہم اول ایمان لانے والوں میں ہیں

﴿۵۲﴾ اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو رات کو لے نکلو کہ (فرعونیوں کی طرف سے) تمہارا تعاقب کیا جائے گا

﴿۵۳﴾ تو فرعون نے شہروں میں نقیب راونہ کئے

﴿۵۴﴾ (اور کہا) کہ یہ لوگ تھوڑی سی جماعت ہے

﴿۵۵﴾ اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں

﴿۵۶﴾ اور ہم سب باسازو سامان ہیں

﴿۵۷﴾ تو ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا

﴿۵۸﴾ اور خزانوں اور نفیس مکانات سے

﴿۵۹﴾ (ان کے ساتھ ہم نے) اس طرح (کیا) اور ان چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو کر دیا

﴿۶۰﴾ تو انہوں نے سورج نکلتے (یعنی صبح کو) ان کا تعاقب کیا

﴿۶۱﴾ جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم تو پکڑ لئے گئے

﴿۶۲﴾ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں میرا پروردگار میرے ساتھ ہے وہ مجھے رستہ بتائے گا

﴿۶۳﴾ اس وقت ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی دریا پر مارو۔ تو دریا پھٹ گیا۔ اور ہر ایک ٹکڑا (یوں) ہوگیا (کہ) گویا بڑا پہاڑ (ہے)

﴿۶۴﴾ اور دوسروں کو وہاں ہم نے قریب کردیا

﴿۶۵﴾ اور موسیٰ اور ان کے ساتھ والوں کو تو بچا لیا

﴿۶۶﴾ پھر دوسروں کو ڈبو دیا

﴿۶۷﴾ بےشک اس (قصے) میں نشانی ہے۔ لیکن یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں

﴿۶۸﴾ اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

﴿۶۹﴾ اور ان کو ابراہیم کا حال پڑھ کر سنا دو

﴿۷۰﴾ جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ تم کس چیز کو پوجتے ہو

﴿۷۱﴾ وہ کہنے لگے کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور ان کی پوجا پر قائم ہیں

﴿۷۲﴾ ابراہیم نے کہا کہ جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمہاری آواز کو سنتے ہیں؟

﴿۷۳﴾ یا تمہیں کچھ فائدے دے سکتے یا نقصان پہنچا سکتے ہیں؟

﴿۷۴﴾ انہوں نے کہا (نہیں) بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے

﴿۷۵﴾ ابراہیم نے کہا کیا تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو

﴿۷۶﴾ تم بھی اور تمہارے اگلے باپ دادا بھی

﴿۷۷﴾ وہ میرے دشمن ہیں۔ مگر خدائے رب العالمین (میرا دوست ہے)

﴿۷۸﴾ جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے رستہ دکھاتا ہے

﴿۷۹﴾ اور وہ جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے

﴿۸۰﴾ اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے

﴿۸۱﴾ اور جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا

﴿۸۲﴾ اور وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ قیامت کے دن میرے گناہ بخشے گا

﴿۸۳﴾ اے پروردگار مجھے علم ودانش عطا فرما اور نیکوکاروں میں شامل کر

﴿۸۴﴾ اور پچھلے لوگوں میں میرا ذکر نیک (جاری) کر

﴿۸۵﴾ اور مجھے نعمت کی بہشت کے وارثوں میں کر

﴿۸۶﴾ اور میرے باپ کو بخش دے کہ وہ گمراہوں میں سے ہے

﴿۸۷﴾ اور جس دن لوگ اٹھا کھڑے کئے جائیں گے مجھے رسوا نہ کیجیو

﴿۸۸﴾ جس دن نہ مال ہی کچھ فائدہ دے سکا گا اور نہ بیٹے

﴿۸۹﴾ ہاں جو شخص خدا کے پاس پاک دل لے کر آیا (وہ بچ جائے گا)

﴿۹۰﴾ اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی

﴿۹۱﴾ اور دوزخ گمراہوں کے سامنے لائی جائے گی

﴿۹۲﴾ اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم پوجتے تھے وہ کہاں ہیں؟

﴿۹۳﴾ یعنی جن کو خدا کے سوا (پوجتے تھے) کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں

﴿۹۴﴾ تو وہ اور گمراہ (یعنی بت اور بت پرست) اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے

﴿۹۵﴾ اور شیطان کے لشکر سب کے سب (داخل جہنم ہوں گے)

﴿۹۶﴾ وہ آپس میں جھگڑیں گے اور کہیں گے

﴿۹۷﴾ کہ خدا کی قسم ہم تو صریح گمراہی میں تھے

﴿۹۸﴾ جب کہ تمہیں (خدائے) رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے

﴿۹۹﴾ اور ہم کو ان گنہگاروں ہی نے گمراہ کیا تھا

﴿۱۰۰﴾ تو (آج) نہ کوئی ہمارا سفارش کرنے والا ہے

﴿۱۰۱﴾ اور نہ گرم جوش دوست

﴿۱۰۲﴾ کاش ہمیں (دنیا میں) پھر جانا ہو تم ہم مومنوں میں ہوجائیں

﴿۱۰۳﴾ بےشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں

﴿۱۰۴﴾ اور تمہارا پروردگار تو غالب اور مہربان ہے

﴿۱۰۵﴾ قوم نوح نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

﴿۱۰۶﴾ جب ان سے ان کے بھائی نوح نے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں

﴿۱۰۷﴾ میں تو تمہارا امانت دار ہوں

﴿۱۰۸﴾ تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

﴿۱۰۹﴾ اور اس کام کا تم سے کچھ صلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ تو خدائے رب العالمین ہی پر ہے

﴿۱۱۰﴾ تو خدا سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو

﴿۱۱۱﴾ وہ بولے کہ کیا ہم تم کو مان لیں اور تمہارے پیرو تو رذیل لوگ ہوتے ہیں

﴿۱۱۲﴾ نوح نے کہا کہ مجھے کیا معلوم کہ وہ کیا کرتے ہیں

﴿۱۱۳﴾ ان کا حساب (اعمال) میرے پروردگار کے ذمے ہے کاش تم سمجھو

﴿۱۱۴﴾ اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں

﴿۱۱۵﴾ میں تو صرف کھول کھول کر نصیحت کرنے والا ہوں

﴿۱۱۶﴾ انہوں نے کہا کہ نوح اگر تم باز نہ آؤ گے تو سنگسار کردیئے جاؤ گے

﴿۱۱۷﴾ نوح نے کہا کہ پروردگار میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا

﴿۱۱۸﴾ سو تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کردے اور مجھے اور جو میرے ساتھ ہیں ان کو بچا لے

﴿۱۱۹﴾ پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے، ان کو بچا لیا

﴿۱۲۰﴾ پھر اس کے بعد باقی لوگوں کو ڈبو دیا

﴿۱۲۱﴾ بےشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

﴿۱۲۲﴾ اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

﴿۱۲۳﴾ عاد نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

﴿۱۲۴﴾ جب ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں

﴿۱۲۵﴾ میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں

﴿۱۲۶﴾ تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

﴿۱۲۷﴾ اور میں اس کا تم سے کچھ بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا بدلہ (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے

﴿۱۲۸﴾ بھلا تم ہر اونچی جگہ پر نشان تعمیر کرتے ہو

﴿۱۲۹﴾ اور محل بناتے ہو شاید تم ہمیشہ رہو گے

﴿۱۳۰﴾ اور جب (کسی کو) پکڑتے ہو تو ظالمانہ پکڑتے ہو

﴿۱۳۱﴾ تو خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

﴿۱۳۲﴾ اور اس سے جس نے تم کو ان چیزوں سے مدد دی جن کو تم جانتے ہو۔ ڈرو

﴿۱۳۳﴾ اس نے تمہیں چارپایوں اور بیٹوں سے مدد دی

﴿۱۳۴﴾ اور باغوں اور چشموں سے

﴿۱۳۵﴾ مجھ کو تمہارے بارے میں بڑے (سخت) دن کے عذاب کا خوف ہے

﴿۱۳۶﴾ وہ کہنے لگے کہ ہمیں خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو ہمارے لئے یکساں ہے

﴿۱۳۷﴾ یہ تو اگلوں ہی کے طریق ہیں

﴿۱۳۸﴾ اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا

﴿۱۳۹﴾ تو انہوں نے ہود کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔ بےشک اس میں نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

﴿۱۴۰﴾ اور تمہارا پروردگار تو غالب اور مہربان ہے

﴿۱۴۱﴾ (اور) قوم ثمود نے بھی پیغمبروں کو جھٹلا دیا

﴿۱۴۲﴾ جب ان سے ان کے بھائی صالح نے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں؟

﴿۱۴۳﴾ میں تو تمہارا امانت دار ہوں

﴿۱۴۴﴾ تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

﴿۱۴۵﴾ اور میں اس کا تم سے بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا بدلہ (خدا) رب العالمین کے ذمے ہے

﴿۱۴۶﴾ کیا وہ چیزیں (تمہیں یہاں میسر) ہیں ان میں تم بےخوف چھوڑ دیئے جاؤ گے

﴿۱۴۷﴾ (یعنی) باغ اور چشمے

﴿۱۴۸﴾ اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف ونازک ہوتے ہیں

﴿۱۴۹﴾ اور تکلف سے پہاڑوں میں تراش خراش کر گھر بناتے ہو

﴿۱۵۰﴾ تو خدا سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو

﴿۱۵۱﴾ اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو

﴿۱۵۲﴾ جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے

﴿۱۵۳﴾ وہ کہنے لگے کہ تم تو جادو زدہ ہو

﴿۱۵۴﴾ تم اور کچھ نہیں ہماری طرح آدمی ہو۔ اگر سچے ہو تو کوئی نشانی پیش کرو

﴿۱۵۵﴾ صالح نے کہا (دیکھو) یہ اونٹنی ہے (ایک دن) اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمہاری باری

﴿۱۵۶﴾ اور اس کو کوئی تکلیف نہ دینا (نہیں تو) تم کو سخت عذاب آ پکڑے گا

﴿۱۵۷﴾ تو انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے

﴿۱۵۸﴾ سو ان کو عذاب نے آن پکڑا۔ بےشک اس میں نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

﴿۱۵۹﴾ اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

﴿۱۶۰﴾ (اور قوم) لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

﴿۱۶۱﴾ جب ان سے ان کے بھائی لوط نے کہا کہ تم کیوں نہیں ڈرتے؟

﴿۱۶۲﴾ میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں

﴿۱۶۳﴾ تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

﴿۱۶۴﴾ اور میں تم سے اس (کام) کا بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا بدلہ (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے

﴿۱۶۵﴾ کیا تم اہل عالم میں سے لڑکوں پر مائل ہوتے ہو

﴿۱۶۶﴾ اور تمہارے پروردگار نے جو تمہارے لئے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے ہو

﴿۱۶۷﴾ وہ کہنے لگے کہ لوط اگر تم باز نہ آؤ گے تو شہر بدر کردیئے جاؤ گے

﴿۱۶۸﴾ لوط نے کہا کہ میں تمہارے کام کا سخت دشمن ہوں

﴿۱۶۹﴾ اے میرے پروردگار مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں (کے وبال) سے نجات دے

﴿۱۷۰﴾ سو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو سب کو نجات دی

﴿۱۷۱﴾ مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی

﴿۱۷۲﴾ پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا

﴿۱۷۳﴾ اور ان پر مینھہ برسایا۔ سو جو مینھہ ان (لوگوں) پر (برسا) جو ڈرائے گئے برا تھا

﴿۱۷۴﴾ بےشک اس میں نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

﴿۱۷۵﴾ اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے۔

﴿۱۷۶﴾ اور بن کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

﴿۱۷۷﴾ جب ان سے شعیب نے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں؟

﴿۱۷۸﴾ میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں

﴿۱۷۹﴾ تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

﴿۱۸۰﴾ اور میں اس کام کا تم سے کچھ بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ تو خدائے رب العالمین کے ذمے ہے

﴿۱۸۱﴾ (دیکھو) پیمانہ پورا بھرا کرو اور نقصان نہ کیا کرو

﴿۱۸۲﴾ اور ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو

﴿۱۸۳﴾ اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور ملک میں فساد نہ کرتے پھرو

﴿۱۸۴﴾ اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور پہلی خلقت کو پیدا کیا

﴿۱۸۵﴾ وہ کہنے لگے کہ تم جادو زدہ ہو

﴿۱۸۶﴾ اور تم اور کچھ نہیں ہم ہی جیسے آدمی ہو۔ اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو

﴿۱۸۷﴾ اور اگر سچے ہو تو ہم پر آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر گراؤ

﴿۱۸۸﴾ شعیب نے کہا کہ جو کام تم کرتے ہو میرا پروردگار اس سے خوب واقف ہے

﴿۱۸۹﴾ تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلایا، پس سائبان کے عذاب نے ان کو آ پکڑا۔ بےشک وہ بڑے (سخت) دن کا عذاب تھا

﴿۱۹۰﴾ اس میں یقیناً نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

﴿۱۹۱﴾ اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

﴿۱۹۲﴾ اور یہ قرآن (خدائے) پروردگار عالم کا اُتارا ہوا ہے

﴿۱۹۳﴾ اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اُترا ہے

﴿۱۹۴﴾ (یعنی اس نے) تمہارے دل پر (القا) کیا ہے تاکہ (لوگوں کو) نصیحت کرتے رہو

﴿۱۹۵﴾ اور (القا بھی) فصیح عربی زبان میں (کیا ہے)

﴿۱۹۶﴾ اور اس کی خبر پہلے پیغمبروں کی کتابوں میں (لکھی ہوئی) ہے

﴿۱۹۷﴾ کیا ان کے لئے یہ سند نہیں ہے کہ علمائے بنی اسرائیل اس (بات) کو جانتے ہیں

﴿۱۹۸﴾ اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اُتارتے

﴿۱۹۹﴾ اور وہ اسے ان (لوگوں کو) پڑھ کر سناتا تو یہ اسے (کبھی) نہ مانتے

﴿۲۰۰﴾ اسی طرح ہم نے انکار کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کردیا

﴿۲۰۱﴾ وہ جب تک درد دینے والا عذاب نہ دیکھ لیں گے، اس کو نہیں مانیں گے

﴿۲۰۲﴾ وہ ان پر ناگہاں آ واقع ہوگا اور انہیں خبر بھی نہ ہوگی

﴿۲۰۳﴾ اس وقت کہیں گے کیا ہمیں ملہت ملے گی؟

﴿۲۰۴﴾ تو کیا یہ ہمارے عذاب کو جلدی طلب کر رہے ہیں

﴿۲۰۵﴾ بھلا دیکھو تو اگر ہم ان کو برسوں فائدے دیتے رہے

﴿۲۰۶﴾ پھر ان پر وہ (عذاب) آ واقع ہو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے

﴿۲۰۷﴾ تو جو فائدے یہ اٹھاتے رہے ان کے کس کام آئیں گے

﴿۲۰۸﴾ اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہیں کی مگر اس کے لئے نصیحت کرنے والے (پہلے بھیج دیتے) تھے

﴿۲۰۹﴾ نصیحت کردیں اور ہم ظالم نہیں ہیں

﴿۲۱۰﴾ اور اس (قرآن) کو شیطان لے کر نازل نہیں ہوئے

﴿۲۱۱﴾ یہ کام نہ تو ان کو سزاوار ہے اور نہ وہ اس کی طاقت رکھتے ہیں

﴿۲۱۲﴾ وہ (آسمانی باتوں) کے سننے (کے مقامات) سے الگ کر دیئے گئے ہیں

﴿۲۱۳﴾ تو خدا کے سوا کسی اور معبود کو مت پکارنا، ورنہ تم کو عذاب دیا جائے گا

﴿۲۱۴﴾ اور اپنے قریب کے رشتہ داروں کو ڈر سنا دو

﴿۲۱۵﴾ اور جو مومن تمہارے پیرو ہوگئے ہیں ان سے متواضع پیش آؤ

﴿۲۱۶﴾ پھر اگر لوگ تمہاری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ میں تمہارے اعمال سے بےتعلق ہوں

﴿۲۱۷﴾ اور (خدائے) غالب اور مہربان پر بھروسا رکھو

﴿۲۱۸﴾ جو تم کو جب تم (تہجد) کے وقت اُٹھتے ہو دیکھتا ہے

﴿۲۱۹﴾ اور نمازیوں میں تمہارے پھرنے کو بھی

﴿۲۲۰﴾ بےشک وہ سننے اور جاننے والا ہے

﴿۲۲۱﴾ (اچھا) میں تمیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اُترتے ہیں

﴿۲۲۲﴾ ہر جھوٹے گنہگار پر اُترتے ہیں

﴿۲۲۳﴾ جو سنی ہوئی بات (اس کے کام میں) لا ڈالتے ہیں اور وہ اکثر جھوٹے ہیں

﴿۲۲۴﴾ اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں

﴿۲۲۵﴾ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سر مارتے پھرتے ہیں

﴿۲۲۶﴾ اور کہتے وہ ہیں جو کرتے نہیں

﴿۲۲۷﴾ مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اور خدا کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں

﴿۱﴾ طٰسٓمٓ

﴿۲﴾ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں

﴿۳﴾ (اے پیغمبرﷺ) شاید تم اس (رنج) سے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے اپنے تئیں ہلاک کردو گے

﴿۴﴾ اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اُتار دیں۔ پھر ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں

﴿۵﴾ اور ان کے پاس (خدائے) رحمٰن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

﴿۶﴾ سو یہ تو جھٹلا چکے اب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوگی جس کی ہنسی اُڑاتے تھے

﴿۷﴾ کیا انہوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اُگائی ہیں

﴿۸﴾ کچھ شک نہیں کہ اس میں (قدرت خدا کی) نشانی ہے مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں

﴿۹﴾ اور تمہارا پروردگار غالب (اور) مہربان ہے

﴿۱۰﴾ اور جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو پکارا کہ ظالم لوگوں کے پاس جاؤ

﴿۱۱﴾ (یعنی) قوم فرعون کے پاس، کیا یہ ڈرتے نہیں

﴿۱۲﴾ انہوں نے کہا کہ میرے پروردگار میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں

﴿۱۳﴾ اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے تو ہارون کو حکم بھیج کہ میرے ساتھ چلیں

﴿۱۴﴾ اور ان لوگوں کا مجھ پر ایک گناہ (یعنی قبطی کے خون کا دعویٰ) بھی ہے سو مجھے یہ بھی خوف ہے کہ مجھ کو مار ہی ڈالیں

﴿۱۵﴾ فرمایا ہرگز نہیں۔ تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں

﴿۱۶﴾ تو دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہان کے مالک کے بھیجے ہوئے ہیں

﴿۱۷﴾ (اور اس لئے آئے ہیں) کہ آپ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دیں

﴿۱۸﴾ (فرعون نے موسیٰ سے کہا) کیا ہم نے تم کو کہ ابھی بچّے تھے پرورش نہیں کیا اور تم نے برسوں ہمارے ہاں عمر بسر (نہیں) کی

﴿۱۹﴾ اور تم نے وہ کام کیا تھا جو کیا اور تم ناشکرے معلوم ہوتے ہو

﴿۲۰﴾ (موسیٰ نے) کہاں (ہاں) وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں تھا

﴿۲۱﴾ تو جب مجھے تم سے ڈر لگا تو تم میں سے بھاگ گیا۔ پھر خدا نے مجھ کو نبوت وعلم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا

﴿۲۲﴾ اور (کیا) یہی احسان ہے جو آپ مجھ پر رکھتے ہیں کہ آپ نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے

﴿۲۳﴾ فرعون نے کہا کہ تمام جہان مالک کیا

﴿۲۴﴾ کہا کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک۔ بشرطیکہ تم لوگوں کو یقین ہو

﴿۲۵﴾ فرعون نے اپنے اہالی موالی سے کہا کہ کیا تم سنتے نہیں

﴿۲۶﴾ (موسیٰ نے) کہا کہ تمہارا اور تمہارے پہلے باپ دادا کا مالک

﴿۲۷﴾ (فرعون نے) کہا کہ (یہ) پیغمبر جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے باؤلا ہے

﴿۲۸﴾ موسیٰ نے کہا کہ مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک، بشرطیکہ تم کو سمجھ ہو

﴿۲۹﴾ (فرعون نے) کہا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تمہیں قید کردوں گا

﴿۳۰﴾ (موسیٰ نے) کہا خواہ میں آپ کے پاس روشن چیز لاؤں (یعنی معجزہ)

﴿۳۱﴾ فرعون نے کہا اگر سچے ہو تو اسے لاؤ (دکھاؤ)

﴿۳۲﴾ پس انہوں نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت صریح اژدہا بن گئی

﴿۳۳﴾ اور اپنا ہاتھ نکالا تو اسی دم دیکھنے والوں کے لئے سفید (براق نظر آنے لگا)

﴿۳۴﴾ فرعون نے اپنے گرد کے سرداروں سے کہا کہ یہ تو کامل فن جادوگر ہے

﴿۳۵﴾ چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو (کے زور) سے تمہارے ملک سے نکال دے تو تمہاری کیا رائے ہے؟

﴿۳۶﴾ انہوں نے کہا کہ اسے اور اس کے بھائی (کے بارے) میں کچھ توقف کیجیئے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیئے

﴿۳۷﴾ کہ سب ماہر جادوگروں کو (جمع کرکے) آپ کے پاس لے آئیں

﴿۳۸﴾ تو جادوگر ایک مقررہ دن کی میعاد پر جمع ہوگئے

﴿۳۹﴾ اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکھٹے ہو کر جانا چاہیئے

﴿۴۰﴾ تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہوجائیں

﴿۴۱﴾ جب جادوگر آگئے تو فرعون سے کہنے لگے اگر ہم غالب رہے تو ہمیں صلہ بھی عطا ہوگا؟

﴿۴۲﴾ فرعون نے کہا ہاں اور تم مقربوں میں بھی داخل کرلئے جاؤ گے

﴿۴۳﴾ موسیٰ نے ان سے کہا کہ جو چیز ڈالنی چاہتے ہو، ڈالو

﴿۴۴﴾ تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں اور کہنے لگے کہ فرعون کے اقبال کی قسم ہم ضرور غالب رہیں گے

﴿۴۵﴾ پھر موسیٰ نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ ان چیزوں کو جو جادوگروں نے بنائی تھیں یکایک نگلنے لگی

﴿۴۶﴾ تب جادوگر سجدے میں گر پڑے

﴿۴۷﴾ (اور) کہنے لگے کہ ہم تمام جہان کے مالک پر ایمان لے آئے

﴿۴۸﴾ جو موسیٰ اور ہارون کا مالک ہے

﴿۴۹﴾ فرعون نے کہا کیا اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے، بےشک یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔ سو عنقریب تم (اس کا انجام) معلوم کرلو گے کہ میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں اطراف مخالف سے کٹوا دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھوا دوں گا

﴿۵۰﴾ انہوں نے کہا کہ کچھ نقصان (کی بات) نہیں ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ جانے والے ہیں

﴿۵۱﴾ ہمیں امید ہے کہ ہمارا پروردگار ہمارے گناہ بخش دے گا۔ اس لئے کہ ہم اول ایمان لانے والوں میں ہیں

﴿۵۲﴾ اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو رات کو لے نکلو کہ (فرعونیوں کی طرف سے) تمہارا تعاقب کیا جائے گا

﴿۵۳﴾ تو فرعون نے شہروں میں نقیب راونہ کئے

﴿۵۴﴾ (اور کہا) کہ یہ لوگ تھوڑی سی جماعت ہے

﴿۵۵﴾ اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں

﴿۵۶﴾ اور ہم سب باسازو سامان ہیں

﴿۵۷﴾ تو ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا

﴿۵۸﴾ اور خزانوں اور نفیس مکانات سے

﴿۵۹﴾ (ان کے ساتھ ہم نے) اس طرح (کیا) اور ان چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو کر دیا

﴿۶۰﴾ تو انہوں نے سورج نکلتے (یعنی صبح کو) ان کا تعاقب کیا

﴿۶۱﴾ جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم تو پکڑ لئے گئے

﴿۶۲﴾ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں میرا پروردگار میرے ساتھ ہے وہ مجھے رستہ بتائے گا

﴿۶۳﴾ اس وقت ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی دریا پر مارو۔ تو دریا پھٹ گیا۔ اور ہر ایک ٹکڑا (یوں) ہوگیا (کہ) گویا بڑا پہاڑ (ہے)

﴿۶۴﴾ اور دوسروں کو وہاں ہم نے قریب کردیا

﴿۶۵﴾ اور موسیٰ اور ان کے ساتھ والوں کو تو بچا لیا

﴿۶۶﴾ پھر دوسروں کو ڈبو دیا

﴿۶۷﴾ بےشک اس (قصے) میں نشانی ہے۔ لیکن یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں

﴿۶۸﴾ اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

﴿۶۹﴾ اور ان کو ابراہیم کا حال پڑھ کر سنا دو

﴿۷۰﴾ جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ تم کس چیز کو پوجتے ہو

﴿۷۱﴾ وہ کہنے لگے کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور ان کی پوجا پر قائم ہیں

﴿۷۲﴾ ابراہیم نے کہا کہ جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمہاری آواز کو سنتے ہیں؟

﴿۷۳﴾ یا تمہیں کچھ فائدے دے سکتے یا نقصان پہنچا سکتے ہیں؟

﴿۷۴﴾ انہوں نے کہا (نہیں) بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے

﴿۷۵﴾ ابراہیم نے کہا کیا تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو

﴿۷۶﴾ تم بھی اور تمہارے اگلے باپ دادا بھی

﴿۷۷﴾ وہ میرے دشمن ہیں۔ مگر خدائے رب العالمین (میرا دوست ہے)

﴿۷۸﴾ جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے رستہ دکھاتا ہے

﴿۷۹﴾ اور وہ جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے

﴿۸۰﴾ اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے

﴿۸۱﴾ اور جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا

﴿۸۲﴾ اور وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ قیامت کے دن میرے گناہ بخشے گا

﴿۸۳﴾ اے پروردگار مجھے علم ودانش عطا فرما اور نیکوکاروں میں شامل کر

﴿۸۴﴾ اور پچھلے لوگوں میں میرا ذکر نیک (جاری) کر

﴿۸۵﴾ اور مجھے نعمت کی بہشت کے وارثوں میں کر

﴿۸۶﴾ اور میرے باپ کو بخش دے کہ وہ گمراہوں میں سے ہے

﴿۸۷﴾ اور جس دن لوگ اٹھا کھڑے کئے جائیں گے مجھے رسوا نہ کیجیو

﴿۸۸﴾ جس دن نہ مال ہی کچھ فائدہ دے سکا گا اور نہ بیٹے

﴿۸۹﴾ ہاں جو شخص خدا کے پاس پاک دل لے کر آیا (وہ بچ جائے گا)

﴿۹۰﴾ اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی

﴿۹۱﴾ اور دوزخ گمراہوں کے سامنے لائی جائے گی

﴿۹۲﴾ اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم پوجتے تھے وہ کہاں ہیں؟

﴿۹۳﴾ یعنی جن کو خدا کے سوا (پوجتے تھے) کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں

﴿۹۴﴾ تو وہ اور گمراہ (یعنی بت اور بت پرست) اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے

﴿۹۵﴾ اور شیطان کے لشکر سب کے سب (داخل جہنم ہوں گے)

﴿۹۶﴾ وہ آپس میں جھگڑیں گے اور کہیں گے

﴿۹۷﴾ کہ خدا کی قسم ہم تو صریح گمراہی میں تھے

﴿۹۸﴾ جب کہ تمہیں (خدائے) رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے

﴿۹۹﴾ اور ہم کو ان گنہگاروں ہی نے گمراہ کیا تھا

﴿۱۰۰﴾ تو (آج) نہ کوئی ہمارا سفارش کرنے والا ہے

﴿۱۰۱﴾ اور نہ گرم جوش دوست

﴿۱۰۲﴾ کاش ہمیں (دنیا میں) پھر جانا ہو تم ہم مومنوں میں ہوجائیں

﴿۱۰۳﴾ بےشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں

﴿۱۰۴﴾ اور تمہارا پروردگار تو غالب اور مہربان ہے

﴿۱۰۵﴾ قوم نوح نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

﴿۱۰۶﴾ جب ان سے ان کے بھائی نوح نے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں

﴿۱۰۷﴾ میں تو تمہارا امانت دار ہوں

﴿۱۰۸﴾ تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

﴿۱۰۹﴾ اور اس کام کا تم سے کچھ صلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ تو خدائے رب العالمین ہی پر ہے

﴿۱۱۰﴾ تو خدا سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو

﴿۱۱۱﴾ وہ بولے کہ کیا ہم تم کو مان لیں اور تمہارے پیرو تو رذیل لوگ ہوتے ہیں

﴿۱۱۲﴾ نوح نے کہا کہ مجھے کیا معلوم کہ وہ کیا کرتے ہیں

﴿۱۱۳﴾ ان کا حساب (اعمال) میرے پروردگار کے ذمے ہے کاش تم سمجھو

﴿۱۱۴﴾ اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں

﴿۱۱۵﴾ میں تو صرف کھول کھول کر نصیحت کرنے والا ہوں

﴿۱۱۶﴾ انہوں نے کہا کہ نوح اگر تم باز نہ آؤ گے تو سنگسار کردیئے جاؤ گے

﴿۱۱۷﴾ نوح نے کہا کہ پروردگار میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا

﴿۱۱۸﴾ سو تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کردے اور مجھے اور جو میرے ساتھ ہیں ان کو بچا لے

﴿۱۱۹﴾ پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے، ان کو بچا لیا

﴿۱۲۰﴾ پھر اس کے بعد باقی لوگوں کو ڈبو دیا

﴿۱۲۱﴾ بےشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

﴿۱۲۲﴾ اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

﴿۱۲۳﴾ عاد نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

﴿۱۲۴﴾ جب ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں

﴿۱۲۵﴾ میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں

﴿۱۲۶﴾ تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

﴿۱۲۷﴾ اور میں اس کا تم سے کچھ بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا بدلہ (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے

﴿۱۲۸﴾ بھلا تم ہر اونچی جگہ پر نشان تعمیر کرتے ہو

﴿۱۲۹﴾ اور محل بناتے ہو شاید تم ہمیشہ رہو گے

﴿۱۳۰﴾ اور جب (کسی کو) پکڑتے ہو تو ظالمانہ پکڑتے ہو

﴿۱۳۱﴾ تو خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

﴿۱۳۲﴾ اور اس سے جس نے تم کو ان چیزوں سے مدد دی جن کو تم جانتے ہو۔ ڈرو

﴿۱۳۳﴾ اس نے تمہیں چارپایوں اور بیٹوں سے مدد دی

﴿۱۳۴﴾ اور باغوں اور چشموں سے

﴿۱۳۵﴾ مجھ کو تمہارے بارے میں بڑے (سخت) دن کے عذاب کا خوف ہے

﴿۱۳۶﴾ وہ کہنے لگے کہ ہمیں خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو ہمارے لئے یکساں ہے

﴿۱۳۷﴾ یہ تو اگلوں ہی کے طریق ہیں

﴿۱۳۸﴾ اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا

﴿۱۳۹﴾ تو انہوں نے ہود کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔ بےشک اس میں نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

﴿۱۴۰﴾ اور تمہارا پروردگار تو غالب اور مہربان ہے

﴿۱۴۱﴾ (اور) قوم ثمود نے بھی پیغمبروں کو جھٹلا دیا

﴿۱۴۲﴾ جب ان سے ان کے بھائی صالح نے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں؟

﴿۱۴۳﴾ میں تو تمہارا امانت دار ہوں

﴿۱۴۴﴾ تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

﴿۱۴۵﴾ اور میں اس کا تم سے بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا بدلہ (خدا) رب العالمین کے ذمے ہے

﴿۱۴۶﴾ کیا وہ چیزیں (تمہیں یہاں میسر) ہیں ان میں تم بےخوف چھوڑ دیئے جاؤ گے

﴿۱۴۷﴾ (یعنی) باغ اور چشمے

﴿۱۴۸﴾ اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف ونازک ہوتے ہیں

﴿۱۴۹﴾ اور تکلف سے پہاڑوں میں تراش خراش کر گھر بناتے ہو

﴿۱۵۰﴾ تو خدا سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو

﴿۱۵۱﴾ اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو

﴿۱۵۲﴾ جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے

﴿۱۵۳﴾ وہ کہنے لگے کہ تم تو جادو زدہ ہو

﴿۱۵۴﴾ تم اور کچھ نہیں ہماری طرح آدمی ہو۔ اگر سچے ہو تو کوئی نشانی پیش کرو

﴿۱۵۵﴾ صالح نے کہا (دیکھو) یہ اونٹنی ہے (ایک دن) اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمہاری باری

﴿۱۵۶﴾ اور اس کو کوئی تکلیف نہ دینا (نہیں تو) تم کو سخت عذاب آ پکڑے گا

﴿۱۵۷﴾ تو انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے

﴿۱۵۸﴾ سو ان کو عذاب نے آن پکڑا۔ بےشک اس میں نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

﴿۱۵۹﴾ اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

﴿۱۶۰﴾ (اور قوم) لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

﴿۱۶۱﴾ جب ان سے ان کے بھائی لوط نے کہا کہ تم کیوں نہیں ڈرتے؟

﴿۱۶۲﴾ میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں

﴿۱۶۳﴾ تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

﴿۱۶۴﴾ اور میں تم سے اس (کام) کا بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا بدلہ (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے

﴿۱۶۵﴾ کیا تم اہل عالم میں سے لڑکوں پر مائل ہوتے ہو

﴿۱۶۶﴾ اور تمہارے پروردگار نے جو تمہارے لئے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے ہو

﴿۱۶۷﴾ وہ کہنے لگے کہ لوط اگر تم باز نہ آؤ گے تو شہر بدر کردیئے جاؤ گے

﴿۱۶۸﴾ لوط نے کہا کہ میں تمہارے کام کا سخت دشمن ہوں

﴿۱۶۹﴾ اے میرے پروردگار مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں (کے وبال) سے نجات دے

﴿۱۷۰﴾ سو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو سب کو نجات دی

﴿۱۷۱﴾ مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی

﴿۱۷۲﴾ پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا

﴿۱۷۳﴾ اور ان پر مینھہ برسایا۔ سو جو مینھہ ان (لوگوں) پر (برسا) جو ڈرائے گئے برا تھا

﴿۱۷۴﴾ بےشک اس میں نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

﴿۱۷۵﴾ اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے۔

﴿۱۷۶﴾ اور بن کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

﴿۱۷۷﴾ جب ان سے شعیب نے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں؟

﴿۱۷۸﴾ میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں

﴿۱۷۹﴾ تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

﴿۱۸۰﴾ اور میں اس کام کا تم سے کچھ بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ تو خدائے رب العالمین کے ذمے ہے

﴿۱۸۱﴾ (دیکھو) پیمانہ پورا بھرا کرو اور نقصان نہ کیا کرو

﴿۱۸۲﴾ اور ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو

﴿۱۸۳﴾ اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور ملک میں فساد نہ کرتے پھرو

﴿۱۸۴﴾ اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور پہلی خلقت کو پیدا کیا

﴿۱۸۵﴾ وہ کہنے لگے کہ تم جادو زدہ ہو

﴿۱۸۶﴾ اور تم اور کچھ نہیں ہم ہی جیسے آدمی ہو۔ اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو

﴿۱۸۷﴾ اور اگر سچے ہو تو ہم پر آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر گراؤ

﴿۱۸۸﴾ شعیب نے کہا کہ جو کام تم کرتے ہو میرا پروردگار اس سے خوب واقف ہے

﴿۱۸۹﴾ تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلایا، پس سائبان کے عذاب نے ان کو آ پکڑا۔ بےشک وہ بڑے (سخت) دن کا عذاب تھا

﴿۱۹۰﴾ اس میں یقیناً نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

﴿۱۹۱﴾ اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

﴿۱۹۲﴾ اور یہ قرآن (خدائے) پروردگار عالم کا اُتارا ہوا ہے

﴿۱۹۳﴾ اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اُترا ہے

﴿۱۹۴﴾ (یعنی اس نے) تمہارے دل پر (القا) کیا ہے تاکہ (لوگوں کو) نصیحت کرتے رہو

﴿۱۹۵﴾ اور (القا بھی) فصیح عربی زبان میں (کیا ہے)

﴿۱۹۶﴾ اور اس کی خبر پہلے پیغمبروں کی کتابوں میں (لکھی ہوئی) ہے

﴿۱۹۷﴾ کیا ان کے لئے یہ سند نہیں ہے کہ علمائے بنی اسرائیل اس (بات) کو جانتے ہیں

﴿۱۹۸﴾ اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اُتارتے

﴿۱۹۹﴾ اور وہ اسے ان (لوگوں کو) پڑھ کر سناتا تو یہ اسے (کبھی) نہ مانتے

﴿۲۰۰﴾ اسی طرح ہم نے انکار کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کردیا

﴿۲۰۱﴾ وہ جب تک درد دینے والا عذاب نہ دیکھ لیں گے، اس کو نہیں مانیں گے

﴿۲۰۲﴾ وہ ان پر ناگہاں آ واقع ہوگا اور انہیں خبر بھی نہ ہوگی

﴿۲۰۳﴾ اس وقت کہیں گے کیا ہمیں ملہت ملے گی؟

﴿۲۰۴﴾ تو کیا یہ ہمارے عذاب کو جلدی طلب کر رہے ہیں

﴿۲۰۵﴾ بھلا دیکھو تو اگر ہم ان کو برسوں فائدے دیتے رہے

﴿۲۰۶﴾ پھر ان پر وہ (عذاب) آ واقع ہو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے

﴿۲۰۷﴾ تو جو فائدے یہ اٹھاتے رہے ان کے کس کام آئیں گے

﴿۲۰۸﴾ اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہیں کی مگر اس کے لئے نصیحت کرنے والے (پہلے بھیج دیتے) تھے

﴿۲۰۹﴾ نصیحت کردیں اور ہم ظالم نہیں ہیں

﴿۲۱۰﴾ اور اس (قرآن) کو شیطان لے کر نازل نہیں ہوئے

﴿۲۱۱﴾ یہ کام نہ تو ان کو سزاوار ہے اور نہ وہ اس کی طاقت رکھتے ہیں

﴿۲۱۲﴾ وہ (آسمانی باتوں) کے سننے (کے مقامات) سے الگ کر دیئے گئے ہیں

﴿۲۱۳﴾ تو خدا کے سوا کسی اور معبود کو مت پکارنا، ورنہ تم کو عذاب دیا جائے گا

﴿۲۱۴﴾ اور اپنے قریب کے رشتہ داروں کو ڈر سنا دو

﴿۲۱۵﴾ اور جو مومن تمہارے پیرو ہوگئے ہیں ان سے متواضع پیش آؤ

﴿۲۱۶﴾ پھر اگر لوگ تمہاری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ میں تمہارے اعمال سے بےتعلق ہوں

﴿۲۱۷﴾ اور (خدائے) غالب اور مہربان پر بھروسا رکھو

﴿۲۱۸﴾ جو تم کو جب تم (تہجد) کے وقت اُٹھتے ہو دیکھتا ہے

﴿۲۱۹﴾ اور نمازیوں میں تمہارے پھرنے کو بھی

﴿۲۲۰﴾ بےشک وہ سننے اور جاننے والا ہے

﴿۲۲۱﴾ (اچھا) میں تمیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اُترتے ہیں

﴿۲۲۲﴾ ہر جھوٹے گنہگار پر اُترتے ہیں

﴿۲۲۳﴾ جو سنی ہوئی بات (اس کے کام میں) لا ڈالتے ہیں اور وہ اکثر جھوٹے ہیں

﴿۲۲۴﴾ اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں

﴿۲۲۵﴾ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سر مارتے پھرتے ہیں

﴿۲۲۶﴾ اور کہتے وہ ہیں جو کرتے نہیں

﴿۲۲۷﴾ مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اور خدا کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں

Surah Ash-Shuara Tafseer in Urdu Audio MP3

Browse Surah Ash-Shuara Ayat by Ayat - سورة الشعراء کی مزید آیات

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 1

سورة الشعراء آیت نمبر 1

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 2

سورة الشعراء آیت نمبر 2

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 3

سورة الشعراء آیت نمبر 3

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 4

سورة الشعراء آیت نمبر 4

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 5

سورة الشعراء آیت نمبر 5

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 6

سورة الشعراء آیت نمبر 6

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 7

سورة الشعراء آیت نمبر 7

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 8

سورة الشعراء آیت نمبر 8

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 9

سورة الشعراء آیت نمبر 9

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 10

سورة الشعراء آیت نمبر 10

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 11

سورة الشعراء آیت نمبر 11

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 12

سورة الشعراء آیت نمبر 12

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 13

سورة الشعراء آیت نمبر 13

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 14

سورة الشعراء آیت نمبر 14

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 15

سورة الشعراء آیت نمبر 15

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 16

سورة الشعراء آیت نمبر 16

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 17

سورة الشعراء آیت نمبر 17

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 18

سورة الشعراء آیت نمبر 18

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 19

سورة الشعراء آیت نمبر 19

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 20

سورة الشعراء آیت نمبر 20

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 21

سورة الشعراء آیت نمبر 21

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 22

سورة الشعراء آیت نمبر 22

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 23

سورة الشعراء آیت نمبر 23

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 24

سورة الشعراء آیت نمبر 24

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 25

سورة الشعراء آیت نمبر 25

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 26

سورة الشعراء آیت نمبر 26

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 27

سورة الشعراء آیت نمبر 27

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 28

سورة الشعراء آیت نمبر 28

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 29

سورة الشعراء آیت نمبر 29

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 30

سورة الشعراء آیت نمبر 30

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 31

سورة الشعراء آیت نمبر 31

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 32

سورة الشعراء آیت نمبر 32

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 33

سورة الشعراء آیت نمبر 33

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 34

سورة الشعراء آیت نمبر 34

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 35

سورة الشعراء آیت نمبر 35

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 36

سورة الشعراء آیت نمبر 36

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 37

سورة الشعراء آیت نمبر 37

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 38

سورة الشعراء آیت نمبر 38

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 39

سورة الشعراء آیت نمبر 39

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 40

سورة الشعراء آیت نمبر 40

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 41

سورة الشعراء آیت نمبر 41

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 42

سورة الشعراء آیت نمبر 42

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 43

سورة الشعراء آیت نمبر 43

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 44

سورة الشعراء آیت نمبر 44

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 45

سورة الشعراء آیت نمبر 45

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 46

سورة الشعراء آیت نمبر 46

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 47

سورة الشعراء آیت نمبر 47

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 48

سورة الشعراء آیت نمبر 48

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 49

سورة الشعراء آیت نمبر 49

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 50

سورة الشعراء آیت نمبر 50

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 51

سورة الشعراء آیت نمبر 51

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 52

سورة الشعراء آیت نمبر 52

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 53

سورة الشعراء آیت نمبر 53

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 54

سورة الشعراء آیت نمبر 54

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 55

سورة الشعراء آیت نمبر 55

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 56

سورة الشعراء آیت نمبر 56

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 57

سورة الشعراء آیت نمبر 57

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 58

سورة الشعراء آیت نمبر 58

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 59

سورة الشعراء آیت نمبر 59

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 60

سورة الشعراء آیت نمبر 60

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 61

سورة الشعراء آیت نمبر 61

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 62

سورة الشعراء آیت نمبر 62

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 63

سورة الشعراء آیت نمبر 63

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 64

سورة الشعراء آیت نمبر 64

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 65

سورة الشعراء آیت نمبر 65

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 66

سورة الشعراء آیت نمبر 66

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 67

سورة الشعراء آیت نمبر 67

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 68

سورة الشعراء آیت نمبر 68

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 69

سورة الشعراء آیت نمبر 69

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 70

سورة الشعراء آیت نمبر 70

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 71

سورة الشعراء آیت نمبر 71

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 72

سورة الشعراء آیت نمبر 72

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 73

سورة الشعراء آیت نمبر 73

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 74

سورة الشعراء آیت نمبر 74

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 75

سورة الشعراء آیت نمبر 75

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 76

سورة الشعراء آیت نمبر 76

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 77

سورة الشعراء آیت نمبر 77

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 78

سورة الشعراء آیت نمبر 78

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 79

سورة الشعراء آیت نمبر 79

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 80

سورة الشعراء آیت نمبر 80

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 81

سورة الشعراء آیت نمبر 81

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 82

سورة الشعراء آیت نمبر 82

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 83

سورة الشعراء آیت نمبر 83

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 84

سورة الشعراء آیت نمبر 84

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 85

سورة الشعراء آیت نمبر 85

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 86

سورة الشعراء آیت نمبر 86

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 87

سورة الشعراء آیت نمبر 87

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 88

سورة الشعراء آیت نمبر 88

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 89

سورة الشعراء آیت نمبر 89

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 90

سورة الشعراء آیت نمبر 90

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 91

سورة الشعراء آیت نمبر 91

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 92

سورة الشعراء آیت نمبر 92

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 93

سورة الشعراء آیت نمبر 93

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 94

سورة الشعراء آیت نمبر 94

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 95

سورة الشعراء آیت نمبر 95

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 96

سورة الشعراء آیت نمبر 96

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 97

سورة الشعراء آیت نمبر 97

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 98

سورة الشعراء آیت نمبر 98

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 99

سورة الشعراء آیت نمبر 99

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 100

سورة الشعراء آیت نمبر 100

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 101

سورة الشعراء آیت نمبر 101

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 102

سورة الشعراء آیت نمبر 102

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 103

سورة الشعراء آیت نمبر 103

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 104

سورة الشعراء آیت نمبر 104

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 105

سورة الشعراء آیت نمبر 105

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 106

سورة الشعراء آیت نمبر 106

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 107

سورة الشعراء آیت نمبر 107

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 108

سورة الشعراء آیت نمبر 108

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 109

سورة الشعراء آیت نمبر 109

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 110

سورة الشعراء آیت نمبر 110

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 111

سورة الشعراء آیت نمبر 111

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 112

سورة الشعراء آیت نمبر 112

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 113

سورة الشعراء آیت نمبر 113

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 114

سورة الشعراء آیت نمبر 114

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 115

سورة الشعراء آیت نمبر 115

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 116

سورة الشعراء آیت نمبر 116

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 117

سورة الشعراء آیت نمبر 117

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 118

سورة الشعراء آیت نمبر 118

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 119

سورة الشعراء آیت نمبر 119

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 120

سورة الشعراء آیت نمبر 120

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 121

سورة الشعراء آیت نمبر 121

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 122

سورة الشعراء آیت نمبر 122

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 123

سورة الشعراء آیت نمبر 123

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 124

سورة الشعراء آیت نمبر 124

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 125

سورة الشعراء آیت نمبر 125

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 126

سورة الشعراء آیت نمبر 126

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 127

سورة الشعراء آیت نمبر 127

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 128

سورة الشعراء آیت نمبر 128

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 129

سورة الشعراء آیت نمبر 129

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 130

سورة الشعراء آیت نمبر 130

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 131

سورة الشعراء آیت نمبر 131

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 132

سورة الشعراء آیت نمبر 132

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 133

سورة الشعراء آیت نمبر 133

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 134

سورة الشعراء آیت نمبر 134

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 135

سورة الشعراء آیت نمبر 135

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 136

سورة الشعراء آیت نمبر 136

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 137

سورة الشعراء آیت نمبر 137

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 138

سورة الشعراء آیت نمبر 138

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 139

سورة الشعراء آیت نمبر 139

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 140

سورة الشعراء آیت نمبر 140

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 141

سورة الشعراء آیت نمبر 141

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 142

سورة الشعراء آیت نمبر 142

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 143

سورة الشعراء آیت نمبر 143

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 144

سورة الشعراء آیت نمبر 144

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 145

سورة الشعراء آیت نمبر 145

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 146

سورة الشعراء آیت نمبر 146

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 147

سورة الشعراء آیت نمبر 147

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 148

سورة الشعراء آیت نمبر 148

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 149

سورة الشعراء آیت نمبر 149

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 150

سورة الشعراء آیت نمبر 150

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 151

سورة الشعراء آیت نمبر 151

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 152

سورة الشعراء آیت نمبر 152

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 153

سورة الشعراء آیت نمبر 153

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 154

سورة الشعراء آیت نمبر 154

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 155

سورة الشعراء آیت نمبر 155

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 156

سورة الشعراء آیت نمبر 156

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 157

سورة الشعراء آیت نمبر 157

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 158

سورة الشعراء آیت نمبر 158

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 159

سورة الشعراء آیت نمبر 159

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 160

سورة الشعراء آیت نمبر 160

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 161

سورة الشعراء آیت نمبر 161

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 162

سورة الشعراء آیت نمبر 162

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 163

سورة الشعراء آیت نمبر 163

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 164

سورة الشعراء آیت نمبر 164

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 165

سورة الشعراء آیت نمبر 165

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 166

سورة الشعراء آیت نمبر 166

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 167

سورة الشعراء آیت نمبر 167

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 168

سورة الشعراء آیت نمبر 168

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 169

سورة الشعراء آیت نمبر 169

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 170

سورة الشعراء آیت نمبر 170

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 171

سورة الشعراء آیت نمبر 171

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 172

سورة الشعراء آیت نمبر 172

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 173

سورة الشعراء آیت نمبر 173

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 174

سورة الشعراء آیت نمبر 174

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 175

سورة الشعراء آیت نمبر 175

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 176

سورة الشعراء آیت نمبر 176

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 177

سورة الشعراء آیت نمبر 177

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 178

سورة الشعراء آیت نمبر 178

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 179

سورة الشعراء آیت نمبر 179

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 180

سورة الشعراء آیت نمبر 180

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 181

سورة الشعراء آیت نمبر 181

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 182

سورة الشعراء آیت نمبر 182

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 183

سورة الشعراء آیت نمبر 183

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 184

سورة الشعراء آیت نمبر 184

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 185

سورة الشعراء آیت نمبر 185

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 186

سورة الشعراء آیت نمبر 186

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 187

سورة الشعراء آیت نمبر 187

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 188

سورة الشعراء آیت نمبر 188

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 189

سورة الشعراء آیت نمبر 189

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 190

سورة الشعراء آیت نمبر 190

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 191

سورة الشعراء آیت نمبر 191

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 192

سورة الشعراء آیت نمبر 192

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 193

سورة الشعراء آیت نمبر 193

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 194

سورة الشعراء آیت نمبر 194

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 195

سورة الشعراء آیت نمبر 195

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 196

سورة الشعراء آیت نمبر 196

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 197

سورة الشعراء آیت نمبر 197

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 198

سورة الشعراء آیت نمبر 198

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 199

سورة الشعراء آیت نمبر 199

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 200

سورة الشعراء آیت نمبر 200

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 201

سورة الشعراء آیت نمبر 201

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 202

سورة الشعراء آیت نمبر 202

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 203

سورة الشعراء آیت نمبر 203

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 204

سورة الشعراء آیت نمبر 204

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 205

سورة الشعراء آیت نمبر 205

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 206

سورة الشعراء آیت نمبر 206

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 207

سورة الشعراء آیت نمبر 207

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 208

سورة الشعراء آیت نمبر 208

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 209

سورة الشعراء آیت نمبر 209

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 210

سورة الشعراء آیت نمبر 210

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 211

سورة الشعراء آیت نمبر 211

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 212

سورة الشعراء آیت نمبر 212

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 213

سورة الشعراء آیت نمبر 213

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 214

سورة الشعراء آیت نمبر 214

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 215

سورة الشعراء آیت نمبر 215

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 216

سورة الشعراء آیت نمبر 216

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 217

سورة الشعراء آیت نمبر 217

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 218

سورة الشعراء آیت نمبر 218

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 219

سورة الشعراء آیت نمبر 219

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 220

سورة الشعراء آیت نمبر 220

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 221

سورة الشعراء آیت نمبر 221

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 222

سورة الشعراء آیت نمبر 222

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 223

سورة الشعراء آیت نمبر 223

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 224

سورة الشعراء آیت نمبر 224

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 225

سورة الشعراء آیت نمبر 225

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 226

سورة الشعراء آیت نمبر 226

سورة الشعراء Surah Ash-Shuara Ayat No 227

سورة الشعراء آیت نمبر 227

Your Comments/Thoughts ?

Read & Listen Surah Ash-Shuara with Urdu Translation سورة الشعراء - Download Surah Ash-Shuara MP3 Audio Quran Online Free. Ash-Shuara Urdu translation by Moulana Fateh Muhammad Jalandari. Read Surah Ash-Shuara with Urdu translation, tilawat by Shaikh Abd-ur Rahman As-Sudais & Shaikh Su'ood As-Shuraim with Urdu translation text.

  • Surah No: 26
  • Ash-Shuara
  • Arabic: سورة الشعراء
  • (سورة الشعراء) Ash-Shuara Meaning in English: The Poets
  • سورة الشعراء اردو میں
  • سورة الشعراء mp3
  • سورة الشعراء pdf

Read Quran Urdu Tarjuma with free download Holy Quran Urdu PDF. Moreover, you can also read and listen Quran Urdu tafseer by great Scholars at Darsaal. Quran Tilawat videos are also available here.