Surah Az-Zukhruf With Urdu Translation and MP3

سورة الزخرف

Read Surah Az-Zukhruf with Urdu Translation - Surah Az-Zukhruf is Meccan Surah and also called Makki Surah of Quran e Pak. You can read Surah Az-Zukhruf with Urdu Translation and download mp3 Surah Az-Zukhruf in your mobile and WhatsApp with voice of Surah Az-Zukhruf Recited by Sheikh Abdur Rahman Al-Sudais & Sheikh Su'ud As-Shuraim. Read and Download Az-Zukhruf Ayat by Ayat in Urdu Translation and Tafseer.
Para / Chapter 25
Surah Name Az-Zukhruf
Classification Meccan - Makki Surah
Surah No. 43
Reciter Surah Az-Zukhruf Recited By Sheikh Abdur Rahman Al-Sudais & Sheikh Su'ud As-Shuraim
Download Click here to Download Surah Az-Zukhruf Audio MP3

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

﴿۲﴾ کتاب روشن کی قسم

﴿۳﴾ کہ ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا ہے تاکہ تم سمجھو

﴿۴﴾ اور یہ بڑی کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں ہمارے پاس (لکھی ہوئی اور) بڑی فضیلت اور حکمت والی ہے

﴿۵﴾ بھلا اس لئے کہ تم حد سے نکلے ہوئے لوگ ہو ہم تم کو نصیحت کرنے سے باز رہیں گے

﴿۶﴾ اور ہم نے پہلے لوگوں میں بھی بہت سے پیغمبر بھیجے تھے

﴿۷﴾ اور کوئی پیغمبر ان کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اس سے تمسخر کرتے تھے

﴿۸﴾ تو جو ان میں سخت زور والے تھے ان کو ہم نے ہلاک کردیا اور اگلے لوگوں کی حالت گزر گئی

﴿۹﴾ اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہہ دیں گے کہ ان کو غالب اور علم والے (خدا) نے پیدا کیا ہے

﴿۱۰﴾ جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا۔ اور اس میں تمہارے لئے رستے بنائے تاکہ تم راہ معلوم کرو

﴿۱۱﴾ اور جس نے ایک اندازے کے ساتھ آسمان سے پانی نازل کیا۔ پھر ہم نے اس سے شہر مردہ کو زندہ کیا۔ اسی طرح تم زمین سے نکالے جاؤ گے

﴿۱۲﴾ اور جس نے تمام قسم کے حیوانات پیدا کئے اور تمہارے لئے کشتیاں اور چارپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو

﴿۱۳﴾ تاکہ تم ان کی پیٹھ پر چڑھ بیٹھو اور جب اس پر بیٹھ جاؤ پھر اپنے پروردگار کے احسان کو یاد کرو اور کہو کہ وہ (ذات) پاک ہے جس نے اس کو ہمارے زیر فرمان کر دیا اور ہم میں طاقت نہ تھی کہ اس کو بس میں کرلیتے

﴿۱۴﴾ اور ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

﴿۱۵﴾ اور انہوں نے اس کے بندوں میں سے اس کے لئے اولاد مقرر کی۔ بےشک انسان صریح ناشکرا ہے

﴿۱۶﴾ کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے خود تو بیٹیاں لیں اور تم کو چن کر بیٹے دیئے

﴿۱۷﴾ حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوشخبری دی جاتی ہے جو انہوں نے خدا کے لئے بیان کی ہے تو اس کا منہ سیاہ ہوجاتا اور وہ غم سے بھر جاتا ہے

﴿۱۸﴾ کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے اور جھگڑے کے وقت بات نہ کرسکے (خدا کی) بیٹی ہوسکتی ہے؟

﴿۱۹﴾ اور انہوں نے فرشتوں کو کہ وہ بھی خدا کے بندے ہیں (خدا کی) بیٹیاں مقرر کیا۔ کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے عنقریب ان کی شہادت لکھ لی جائے گی اور ان سے بازپرس کی جائے گی

﴿۲۰﴾ اور کہتے ہیں اگر خدا چاہتا تو ہم ان کو نہ پوجتے۔ ان کو اس کا کچھ علم نہیں۔ یہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں

﴿۲۱﴾ یا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی تھی تو یہ اس سے سند پکڑتے ہیں

﴿۲۲﴾ بلکہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک رستے پر پایا ہے اور ہم انہی کے قدم بقدم چل رہے ہیں

﴿۲۳﴾ اور اسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں کوئی ہدایت کرنے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راہ پر پایا اور ہم قدم بقدم ان ہی کے پیچھے چلتے ہیں

﴿۲۴﴾ پیغمبر نے کہا اگرچہ میں تمہارے پاس ایسا (دین) لاؤں کہ جس رستے پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا وہ اس سے کہیں سیدھا رستہ دکھاتا ہے کہنے لگے کہ جو (دین) تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے

﴿۲۵﴾ تو ہم نے ان سے انتقام لیا سو دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا

﴿۲۶﴾ اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ جن چیزوں کو تم پوجتے ہو میں ان سے بیزار ہوں

﴿۲۷﴾ ہاں جس نے مجھ کو پیدا کیا وہی مجھے سیدھا رستہ دکھائے گا

﴿۲۸﴾ اور یہی بات اپنی اولاد میں پیچھے چھوڑ گئے تاکہ وہ (خدا کی طرف) رجوع کریں

﴿۲۹﴾ بات یہ ہے کہ میں ان کفار کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتا رہا یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف بیان کرنے والا پیغمبر آ پہنچا

﴿۳۰﴾ اور جب ان کے پاس حق (یعنی قرآن) آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے

﴿۳۱﴾ اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں (یعنی مکّے اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟

﴿۳۲﴾ کیا یہ لوگ تمہارے پروردگار کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ ہم نے ان میں ان کی معیشت کو دنیا کی زندگی میں تقسیم کردیا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ ایک دوسرے سے خدمت لے اور جو کچھ یہ جمع کرتے ہیں تمہارے پروردگار کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے

﴿۳۳﴾ اور اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی جماعت ہوجائیں گے تو جو لوگ خدا سے انکار کرتے ہیں ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں (بھی) جن پر وہ چڑھتے ہیں

﴿۳۴﴾ اور ان کے گھروں کے دروازے بھی اور تخت بھی جن پر تکیہ لگاتے ہیں

﴿۳۵﴾ اور (خوب) تجمل وآرائش (کردیتے) اور یہ سب دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے۔ اور آخرت تمہارے پروردگار کے ہاں پرہیزگاروں کے لئے ہے

﴿۳۶﴾ اور جو کوئی خدا کی یاد سے آنکھیں بند کرکے (یعنی تغافل کرے) ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی ہوجاتا ہے

﴿۳۷﴾ اور یہ (شیطان) ان کو رستے سے روکتے رہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ سیدھے رستے پر ہیں

﴿۳۸﴾ یہاں تک کہ جب ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا کہ اے کاش مجھ میں اور تجھ میں مشرق ومغرب کا فاصلہ ہوتا تو برا ساتھی ہے

﴿۳۹﴾ اور جب تم ظلم کرتے رہے تو آج تمہیں یہ بات فائدہ نہیں دے سکتی کہ تم (سب) عذاب میں شریک ہو

﴿۴۰﴾ کیا تم بہرے کو سنا سکتے ہو یا اندھے کو رستہ دکھا سکتے ہو اور جو صریح گمراہی میں ہو (اسے راہ پر لاسکتے ہو)

﴿۴۱﴾ اگر ہم تم کو (وفات دے کر) اٹھا لیں تو ان لوگوں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے

﴿۴۲﴾ یا (تمہاری زندگی ہی میں) تمہیں وہ (عذاب) دکھا دیں گے جن کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ہم ان پر قابو رکھتے ہیں

﴿۴۳﴾ پس تمہاری طرف جو وحی کی گئی ہے اس کو مضبوط پکڑے رہو۔ بےشک تم سیدھے رستے پر ہو

﴿۴۴﴾ اور یہ (قرآن) تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور (لوگو) تم سے عنقریب پرسش ہوگی

﴿۴۵﴾ اور (اے محمدﷺ) جو اپنے پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے ہیں ان سے دریافت کرلو۔ کیا ہم نے (خدائے) رحمٰن کے سوا اور معبود بنائے تھے کہ ان کی عبادت کی جائے

﴿۴۶﴾ اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو انہوں نے کہا کہ میں پروردگار عالم کا بھیجا ہوا ہوں

﴿۴۷﴾ جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ نشانیوں سے ہنسی کرنے لگے

﴿۴۸﴾ اور جو نشانی ہم ان کو دکھاتے تھے وہ دوسری سے بڑی ہوتی تھی اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑ لیا تاکہ باز آئیں

﴿۴۹﴾ اور کہنے لگے کہ اے جادوگر اس عہد کے مطابق جو تیرے پروردگار نے تجھ سے کر رکھا ہے اس سے دعا کر بےشک ہم ہدایت یاب ہو جائیں گے

﴿۵۰﴾ سو جب ہم نے ان سے عذاب کو دور کردیا تو وہ عہد شکنی کرنے لگے

﴿۵۱﴾ اور فرعون نے اپنی قوم سے پکار کر کہا کہ اے قوم کیا مصر کی حکومت میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اور یہ نہریں جو میرے (محلوں کے) نیچے بہہ رہی ہیں (میری نہیں ہیں) کیا تم دیکھتے نہیں

﴿۵۲﴾ بےشک میں اس شخص سے جو کچھ عزت نہیں رکھتا اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا کہیں بہتر ہوں

﴿۵۳﴾ تو اس پر سونے کے کنگن کیوں نہ اُتارے گئے یا (یہ ہوتا کہ) فرشتے جمع ہو کر اس کے ساتھ آتے

﴿۵۴﴾ غرض اس نے اپنی قوم کی عقل مار دی۔ اور انہوں نے اس کی بات مان لی۔ بےشک وہ نافرمان لوگ تھے

﴿۵۵﴾ جب انہوں نے ہم کو خفا کیا تو ہم نے ان سے انتقام لے کر اور ان سب کو ڈبو کر چھوڑا

﴿۵۶﴾ اور ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لئے عبرت بنا دیا

﴿۵۷﴾ اور جب مریم کے بیٹے (عیسیٰ) کا حال بیان کیا گیا تو تمہاری قوم کے لوگ اس سے چِلا اُٹھے

﴿۵۸﴾ اور کہنے لگے کہ بھلا ہمارے معبود اچھے ہیں یا عیسیٰ؟ انہوں نے عیسیٰ کی جو مثال بیان کی ہے تو صرف جھگڑنے کو۔ حقیقت یہ ہے یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو

﴿۵۹﴾ وہ تو ہمارے ایسے بندے تھے جن پر ہم نے فضل کیا اور بنی اسرائیل کے لئے ان کو (اپنی قدرت کا) نمونہ بنا دیا

﴿۶۰﴾ اور اگر ہم چاہتے تو تم میں سے فرشتے بنا دیتے جو تمہاری جگہ زمین میں رہتے

﴿۶۱﴾ اور وہ قیامت کی نشانی ہیں۔ تو (کہہ دو کہ لوگو) اس میں شک نہ کرو اور میرے پیچھے چلو۔ یہی سیدھا رستہ ہے

﴿۶۲﴾ اور (کہیں) شیطان تم کو (اس سے) روک نہ دے۔ وہ تو تمہارا اعلاینہ دشمن ہے

﴿۶۳﴾ اور جب عیسیٰ نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ میں تمہارے پاس دانائی (کی کتاب) لے کر آیا ہوں۔ نیز اس لئے کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو تم کو سمجھا دوں۔ تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

﴿۶۴﴾ کچھ شک نہیں کہ خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے پس اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا رستہ ہے

﴿۶۵﴾ پھر کتنے فرقے ان میں سے پھٹ گئے۔ سو جو لوگ ظالم ہیں ان کی درد دینے والے دن کے عذاب سے خرابی ہے

﴿۶۶﴾ یہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ قیامت ان پر ناگہاں آموجود ہو اور ان کو خبر تک نہ ہو

﴿۶۷﴾ (جو آپس میں) دوست (ہیں) اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ مگر پرہیزگار (کہ باہم دوست ہی رہیں گے)

﴿۶۸﴾ میرے بندو آج تمہیں نہ کچھ خوف ہے اور نہ تم غمناک ہوگے

﴿۶۹﴾ جو لوگ ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور فرمانبردار ہوگئے

﴿۷۰﴾ (ان سے کہا جائے گا) کہ تم اور تمہاری بیویاں عزت (واحترام) کے ساتھ بہشت میں داخل ہوجاؤ

﴿۷۱﴾ ان پر سونے کی پرچوں اور پیالوں کا دور چلے گا۔ اور وہاں جو جی چاہے اور جو آنکھوں کو اچھا لگے (موجود ہوگا) اور (اے اہل جنت) تم اس میں ہمیشہ رہو گے

﴿۷۲﴾ اور یہ جنت جس کے تم مالک کر دیئے گئے ہو تمہارے اعمال کا صلہ ہے

﴿۷۳﴾ وہاں تمہارے لئے بہت سے میوے ہیں جن کو تم کھاؤ گے

﴿۷۴﴾ (اور کفار) گنہگار ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں رہیں گے

﴿۷۵﴾ جو ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں نامید ہو کر پڑے رہیں گے

﴿۷۶﴾ اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ بلکہ وہی (اپنے آپ پر) ظلم کرتے تھے

﴿۷۷﴾ اور پکاریں گے کہ اے مالک تمہارا پروردگار ہمیں موت دے دے۔ وہ کہے گا کہ تم ہمیشہ (اسی حالت میں) رہو گے

﴿۷۸﴾ ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن تم اکثر حق سے ناخوش ہوتے رہے

﴿۷۹﴾ کیا انہوں نے کوئی بات ٹھہرا رکھی ہے تو ہم بھی کچھ ٹھہرانے والے ہیں

﴿۸۰﴾ کیا یہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں اور سرگوشیوں کو سنتے نہیں؟ ہاں ہاں (سب سنتے ہیں) اور ہمارے فرشتے ان کے پاس (ان کی سب باتیں) لکھ لیتے ہیں

﴿۸۱﴾ کہہ دو کہ اگر خدا کے اولاد ہو تو میں (سب سے) پہلے (اس کی) عبادت کرنے والا ہوں

﴿۸۲﴾ یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کا مالک (اور) عرش کا مالک اس سے پاک ہے

﴿۸۳﴾ تو ان کو بک بک کرنے اور کھیلنے دو۔ یہاں تک کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اس کو دیکھ لیں

﴿۸۴﴾ اور وہی (ایک) آسمانوں میں معبود ہے اور (وہی) زمین میں معبود ہے۔ اور وہ دانا (اور) علم والا ہے

﴿۸۵﴾ اور وہ بہت بابرکت ہے جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کی بادشاہت ہے۔ اور اسی کو قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے

﴿۸۶﴾ اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ سفارش کا کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ ہاں جو علم ویقین کے ساتھ حق کی گواہی دیں (وہ سفارش کرسکتے ہیں)

﴿۸۷﴾ اور اگر تم ان سے پوچھو کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہہ دیں گے کہ خدا نے۔ تو پھر یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں؟

﴿۸۸﴾ اور (بسااوقات) پیغمبر کہا کرتے ہیں کہ اے پروردگار یہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے

﴿۸۹﴾ تو ان سے منہ پھیر لو اور سلام کہہ دو۔ ان کو عنقریب (انجام) معلوم ہوجائے گا

﴿۲﴾ کتاب روشن کی قسم

﴿۳﴾ کہ ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا ہے تاکہ تم سمجھو

﴿۴﴾ اور یہ بڑی کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں ہمارے پاس (لکھی ہوئی اور) بڑی فضیلت اور حکمت والی ہے

﴿۵﴾ بھلا اس لئے کہ تم حد سے نکلے ہوئے لوگ ہو ہم تم کو نصیحت کرنے سے باز رہیں گے

﴿۶﴾ اور ہم نے پہلے لوگوں میں بھی بہت سے پیغمبر بھیجے تھے

﴿۷﴾ اور کوئی پیغمبر ان کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اس سے تمسخر کرتے تھے

﴿۸﴾ تو جو ان میں سخت زور والے تھے ان کو ہم نے ہلاک کردیا اور اگلے لوگوں کی حالت گزر گئی

﴿۹﴾ اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہہ دیں گے کہ ان کو غالب اور علم والے (خدا) نے پیدا کیا ہے

﴿۱۰﴾ جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا۔ اور اس میں تمہارے لئے رستے بنائے تاکہ تم راہ معلوم کرو

﴿۱۱﴾ اور جس نے ایک اندازے کے ساتھ آسمان سے پانی نازل کیا۔ پھر ہم نے اس سے شہر مردہ کو زندہ کیا۔ اسی طرح تم زمین سے نکالے جاؤ گے

﴿۱۲﴾ اور جس نے تمام قسم کے حیوانات پیدا کئے اور تمہارے لئے کشتیاں اور چارپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو

﴿۱۳﴾ تاکہ تم ان کی پیٹھ پر چڑھ بیٹھو اور جب اس پر بیٹھ جاؤ پھر اپنے پروردگار کے احسان کو یاد کرو اور کہو کہ وہ (ذات) پاک ہے جس نے اس کو ہمارے زیر فرمان کر دیا اور ہم میں طاقت نہ تھی کہ اس کو بس میں کرلیتے

﴿۱۴﴾ اور ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

﴿۱۵﴾ اور انہوں نے اس کے بندوں میں سے اس کے لئے اولاد مقرر کی۔ بےشک انسان صریح ناشکرا ہے

﴿۱۶﴾ کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے خود تو بیٹیاں لیں اور تم کو چن کر بیٹے دیئے

﴿۱۷﴾ حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوشخبری دی جاتی ہے جو انہوں نے خدا کے لئے بیان کی ہے تو اس کا منہ سیاہ ہوجاتا اور وہ غم سے بھر جاتا ہے

﴿۱۸﴾ کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے اور جھگڑے کے وقت بات نہ کرسکے (خدا کی) بیٹی ہوسکتی ہے؟

﴿۱۹﴾ اور انہوں نے فرشتوں کو کہ وہ بھی خدا کے بندے ہیں (خدا کی) بیٹیاں مقرر کیا۔ کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے عنقریب ان کی شہادت لکھ لی جائے گی اور ان سے بازپرس کی جائے گی

﴿۲۰﴾ اور کہتے ہیں اگر خدا چاہتا تو ہم ان کو نہ پوجتے۔ ان کو اس کا کچھ علم نہیں۔ یہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں

﴿۲۱﴾ یا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی تھی تو یہ اس سے سند پکڑتے ہیں

﴿۲۲﴾ بلکہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک رستے پر پایا ہے اور ہم انہی کے قدم بقدم چل رہے ہیں

﴿۲۳﴾ اور اسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں کوئی ہدایت کرنے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راہ پر پایا اور ہم قدم بقدم ان ہی کے پیچھے چلتے ہیں

﴿۲۴﴾ پیغمبر نے کہا اگرچہ میں تمہارے پاس ایسا (دین) لاؤں کہ جس رستے پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا وہ اس سے کہیں سیدھا رستہ دکھاتا ہے کہنے لگے کہ جو (دین) تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے

﴿۲۵﴾ تو ہم نے ان سے انتقام لیا سو دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا

﴿۲۶﴾ اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ جن چیزوں کو تم پوجتے ہو میں ان سے بیزار ہوں

﴿۲۷﴾ ہاں جس نے مجھ کو پیدا کیا وہی مجھے سیدھا رستہ دکھائے گا

﴿۲۸﴾ اور یہی بات اپنی اولاد میں پیچھے چھوڑ گئے تاکہ وہ (خدا کی طرف) رجوع کریں

﴿۲۹﴾ بات یہ ہے کہ میں ان کفار کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتا رہا یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف بیان کرنے والا پیغمبر آ پہنچا

﴿۳۰﴾ اور جب ان کے پاس حق (یعنی قرآن) آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے

﴿۳۱﴾ اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں (یعنی مکّے اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟

﴿۳۲﴾ کیا یہ لوگ تمہارے پروردگار کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ ہم نے ان میں ان کی معیشت کو دنیا کی زندگی میں تقسیم کردیا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ ایک دوسرے سے خدمت لے اور جو کچھ یہ جمع کرتے ہیں تمہارے پروردگار کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے

﴿۳۳﴾ اور اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی جماعت ہوجائیں گے تو جو لوگ خدا سے انکار کرتے ہیں ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں (بھی) جن پر وہ چڑھتے ہیں

﴿۳۴﴾ اور ان کے گھروں کے دروازے بھی اور تخت بھی جن پر تکیہ لگاتے ہیں

﴿۳۵﴾ اور (خوب) تجمل وآرائش (کردیتے) اور یہ سب دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے۔ اور آخرت تمہارے پروردگار کے ہاں پرہیزگاروں کے لئے ہے

﴿۳۶﴾ اور جو کوئی خدا کی یاد سے آنکھیں بند کرکے (یعنی تغافل کرے) ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی ہوجاتا ہے

﴿۳۷﴾ اور یہ (شیطان) ان کو رستے سے روکتے رہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ سیدھے رستے پر ہیں

﴿۳۸﴾ یہاں تک کہ جب ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا کہ اے کاش مجھ میں اور تجھ میں مشرق ومغرب کا فاصلہ ہوتا تو برا ساتھی ہے

﴿۳۹﴾ اور جب تم ظلم کرتے رہے تو آج تمہیں یہ بات فائدہ نہیں دے سکتی کہ تم (سب) عذاب میں شریک ہو

﴿۴۰﴾ کیا تم بہرے کو سنا سکتے ہو یا اندھے کو رستہ دکھا سکتے ہو اور جو صریح گمراہی میں ہو (اسے راہ پر لاسکتے ہو)

﴿۴۱﴾ اگر ہم تم کو (وفات دے کر) اٹھا لیں تو ان لوگوں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے

﴿۴۲﴾ یا (تمہاری زندگی ہی میں) تمہیں وہ (عذاب) دکھا دیں گے جن کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ہم ان پر قابو رکھتے ہیں

﴿۴۳﴾ پس تمہاری طرف جو وحی کی گئی ہے اس کو مضبوط پکڑے رہو۔ بےشک تم سیدھے رستے پر ہو

﴿۴۴﴾ اور یہ (قرآن) تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور (لوگو) تم سے عنقریب پرسش ہوگی

﴿۴۵﴾ اور (اے محمدﷺ) جو اپنے پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے ہیں ان سے دریافت کرلو۔ کیا ہم نے (خدائے) رحمٰن کے سوا اور معبود بنائے تھے کہ ان کی عبادت کی جائے

﴿۴۶﴾ اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو انہوں نے کہا کہ میں پروردگار عالم کا بھیجا ہوا ہوں

﴿۴۷﴾ جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ نشانیوں سے ہنسی کرنے لگے

﴿۴۸﴾ اور جو نشانی ہم ان کو دکھاتے تھے وہ دوسری سے بڑی ہوتی تھی اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑ لیا تاکہ باز آئیں

﴿۴۹﴾ اور کہنے لگے کہ اے جادوگر اس عہد کے مطابق جو تیرے پروردگار نے تجھ سے کر رکھا ہے اس سے دعا کر بےشک ہم ہدایت یاب ہو جائیں گے

﴿۵۰﴾ سو جب ہم نے ان سے عذاب کو دور کردیا تو وہ عہد شکنی کرنے لگے

﴿۵۱﴾ اور فرعون نے اپنی قوم سے پکار کر کہا کہ اے قوم کیا مصر کی حکومت میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اور یہ نہریں جو میرے (محلوں کے) نیچے بہہ رہی ہیں (میری نہیں ہیں) کیا تم دیکھتے نہیں

﴿۵۲﴾ بےشک میں اس شخص سے جو کچھ عزت نہیں رکھتا اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا کہیں بہتر ہوں

﴿۵۳﴾ تو اس پر سونے کے کنگن کیوں نہ اُتارے گئے یا (یہ ہوتا کہ) فرشتے جمع ہو کر اس کے ساتھ آتے

﴿۵۴﴾ غرض اس نے اپنی قوم کی عقل مار دی۔ اور انہوں نے اس کی بات مان لی۔ بےشک وہ نافرمان لوگ تھے

﴿۵۵﴾ جب انہوں نے ہم کو خفا کیا تو ہم نے ان سے انتقام لے کر اور ان سب کو ڈبو کر چھوڑا

﴿۵۶﴾ اور ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لئے عبرت بنا دیا

﴿۵۷﴾ اور جب مریم کے بیٹے (عیسیٰ) کا حال بیان کیا گیا تو تمہاری قوم کے لوگ اس سے چِلا اُٹھے

﴿۵۸﴾ اور کہنے لگے کہ بھلا ہمارے معبود اچھے ہیں یا عیسیٰ؟ انہوں نے عیسیٰ کی جو مثال بیان کی ہے تو صرف جھگڑنے کو۔ حقیقت یہ ہے یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو

﴿۵۹﴾ وہ تو ہمارے ایسے بندے تھے جن پر ہم نے فضل کیا اور بنی اسرائیل کے لئے ان کو (اپنی قدرت کا) نمونہ بنا دیا

﴿۶۰﴾ اور اگر ہم چاہتے تو تم میں سے فرشتے بنا دیتے جو تمہاری جگہ زمین میں رہتے

﴿۶۱﴾ اور وہ قیامت کی نشانی ہیں۔ تو (کہہ دو کہ لوگو) اس میں شک نہ کرو اور میرے پیچھے چلو۔ یہی سیدھا رستہ ہے

﴿۶۲﴾ اور (کہیں) شیطان تم کو (اس سے) روک نہ دے۔ وہ تو تمہارا اعلاینہ دشمن ہے

﴿۶۳﴾ اور جب عیسیٰ نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ میں تمہارے پاس دانائی (کی کتاب) لے کر آیا ہوں۔ نیز اس لئے کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو تم کو سمجھا دوں۔ تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

﴿۶۴﴾ کچھ شک نہیں کہ خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے پس اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا رستہ ہے

﴿۶۵﴾ پھر کتنے فرقے ان میں سے پھٹ گئے۔ سو جو لوگ ظالم ہیں ان کی درد دینے والے دن کے عذاب سے خرابی ہے

﴿۶۶﴾ یہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ قیامت ان پر ناگہاں آموجود ہو اور ان کو خبر تک نہ ہو

﴿۶۷﴾ (جو آپس میں) دوست (ہیں) اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ مگر پرہیزگار (کہ باہم دوست ہی رہیں گے)

﴿۶۸﴾ میرے بندو آج تمہیں نہ کچھ خوف ہے اور نہ تم غمناک ہوگے

﴿۶۹﴾ جو لوگ ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور فرمانبردار ہوگئے

﴿۷۰﴾ (ان سے کہا جائے گا) کہ تم اور تمہاری بیویاں عزت (واحترام) کے ساتھ بہشت میں داخل ہوجاؤ

﴿۷۱﴾ ان پر سونے کی پرچوں اور پیالوں کا دور چلے گا۔ اور وہاں جو جی چاہے اور جو آنکھوں کو اچھا لگے (موجود ہوگا) اور (اے اہل جنت) تم اس میں ہمیشہ رہو گے

﴿۷۲﴾ اور یہ جنت جس کے تم مالک کر دیئے گئے ہو تمہارے اعمال کا صلہ ہے

﴿۷۳﴾ وہاں تمہارے لئے بہت سے میوے ہیں جن کو تم کھاؤ گے

﴿۷۴﴾ (اور کفار) گنہگار ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں رہیں گے

﴿۷۵﴾ جو ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں نامید ہو کر پڑے رہیں گے

﴿۷۶﴾ اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ بلکہ وہی (اپنے آپ پر) ظلم کرتے تھے

﴿۷۷﴾ اور پکاریں گے کہ اے مالک تمہارا پروردگار ہمیں موت دے دے۔ وہ کہے گا کہ تم ہمیشہ (اسی حالت میں) رہو گے

﴿۷۸﴾ ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن تم اکثر حق سے ناخوش ہوتے رہے

﴿۷۹﴾ کیا انہوں نے کوئی بات ٹھہرا رکھی ہے تو ہم بھی کچھ ٹھہرانے والے ہیں

﴿۸۰﴾ کیا یہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں اور سرگوشیوں کو سنتے نہیں؟ ہاں ہاں (سب سنتے ہیں) اور ہمارے فرشتے ان کے پاس (ان کی سب باتیں) لکھ لیتے ہیں

﴿۸۱﴾ کہہ دو کہ اگر خدا کے اولاد ہو تو میں (سب سے) پہلے (اس کی) عبادت کرنے والا ہوں

﴿۸۲﴾ یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کا مالک (اور) عرش کا مالک اس سے پاک ہے

﴿۸۳﴾ تو ان کو بک بک کرنے اور کھیلنے دو۔ یہاں تک کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اس کو دیکھ لیں

﴿۸۴﴾ اور وہی (ایک) آسمانوں میں معبود ہے اور (وہی) زمین میں معبود ہے۔ اور وہ دانا (اور) علم والا ہے

﴿۸۵﴾ اور وہ بہت بابرکت ہے جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کی بادشاہت ہے۔ اور اسی کو قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے

﴿۸۶﴾ اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ سفارش کا کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ ہاں جو علم ویقین کے ساتھ حق کی گواہی دیں (وہ سفارش کرسکتے ہیں)

﴿۸۷﴾ اور اگر تم ان سے پوچھو کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہہ دیں گے کہ خدا نے۔ تو پھر یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں؟

﴿۸۸﴾ اور (بسااوقات) پیغمبر کہا کرتے ہیں کہ اے پروردگار یہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے

﴿۸۹﴾ تو ان سے منہ پھیر لو اور سلام کہہ دو۔ ان کو عنقریب (انجام) معلوم ہوجائے گا

Surah Az-Zukhruf Tafseer in Urdu Audio MP3

Browse Surah Az-Zukhruf Ayat by Ayat - سورة الزخرف کی مزید آیات

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 2

سورة الزخرف آیت نمبر 2

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 3

سورة الزخرف آیت نمبر 3

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 4

سورة الزخرف آیت نمبر 4

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 5

سورة الزخرف آیت نمبر 5

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 6

سورة الزخرف آیت نمبر 6

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 7

سورة الزخرف آیت نمبر 7

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 8

سورة الزخرف آیت نمبر 8

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 9

سورة الزخرف آیت نمبر 9

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 10

سورة الزخرف آیت نمبر 10

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 11

سورة الزخرف آیت نمبر 11

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 12

سورة الزخرف آیت نمبر 12

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 13

سورة الزخرف آیت نمبر 13

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 14

سورة الزخرف آیت نمبر 14

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 15

سورة الزخرف آیت نمبر 15

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 16

سورة الزخرف آیت نمبر 16

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 17

سورة الزخرف آیت نمبر 17

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 18

سورة الزخرف آیت نمبر 18

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 19

سورة الزخرف آیت نمبر 19

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 20

سورة الزخرف آیت نمبر 20

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 21

سورة الزخرف آیت نمبر 21

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 22

سورة الزخرف آیت نمبر 22

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 23

سورة الزخرف آیت نمبر 23

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 24

سورة الزخرف آیت نمبر 24

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 25

سورة الزخرف آیت نمبر 25

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 26

سورة الزخرف آیت نمبر 26

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 27

سورة الزخرف آیت نمبر 27

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 28

سورة الزخرف آیت نمبر 28

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 29

سورة الزخرف آیت نمبر 29

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 30

سورة الزخرف آیت نمبر 30

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 31

سورة الزخرف آیت نمبر 31

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 32

سورة الزخرف آیت نمبر 32

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 33

سورة الزخرف آیت نمبر 33

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 34

سورة الزخرف آیت نمبر 34

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 35

سورة الزخرف آیت نمبر 35

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 36

سورة الزخرف آیت نمبر 36

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 37

سورة الزخرف آیت نمبر 37

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 38

سورة الزخرف آیت نمبر 38

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 39

سورة الزخرف آیت نمبر 39

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 40

سورة الزخرف آیت نمبر 40

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 41

سورة الزخرف آیت نمبر 41

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 42

سورة الزخرف آیت نمبر 42

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 43

سورة الزخرف آیت نمبر 43

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 44

سورة الزخرف آیت نمبر 44

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 45

سورة الزخرف آیت نمبر 45

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 46

سورة الزخرف آیت نمبر 46

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 47

سورة الزخرف آیت نمبر 47

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 48

سورة الزخرف آیت نمبر 48

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 49

سورة الزخرف آیت نمبر 49

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 50

سورة الزخرف آیت نمبر 50

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 51

سورة الزخرف آیت نمبر 51

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 52

سورة الزخرف آیت نمبر 52

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 53

سورة الزخرف آیت نمبر 53

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 54

سورة الزخرف آیت نمبر 54

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 55

سورة الزخرف آیت نمبر 55

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 56

سورة الزخرف آیت نمبر 56

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 57

سورة الزخرف آیت نمبر 57

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 58

سورة الزخرف آیت نمبر 58

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 59

سورة الزخرف آیت نمبر 59

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 60

سورة الزخرف آیت نمبر 60

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 61

سورة الزخرف آیت نمبر 61

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 62

سورة الزخرف آیت نمبر 62

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 63

سورة الزخرف آیت نمبر 63

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 64

سورة الزخرف آیت نمبر 64

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 65

سورة الزخرف آیت نمبر 65

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 66

سورة الزخرف آیت نمبر 66

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 67

سورة الزخرف آیت نمبر 67

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 68

سورة الزخرف آیت نمبر 68

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 69

سورة الزخرف آیت نمبر 69

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 70

سورة الزخرف آیت نمبر 70

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 71

سورة الزخرف آیت نمبر 71

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 72

سورة الزخرف آیت نمبر 72

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 73

سورة الزخرف آیت نمبر 73

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 74

سورة الزخرف آیت نمبر 74

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 75

سورة الزخرف آیت نمبر 75

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 76

سورة الزخرف آیت نمبر 76

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 77

سورة الزخرف آیت نمبر 77

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 78

سورة الزخرف آیت نمبر 78

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 79

سورة الزخرف آیت نمبر 79

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 80

سورة الزخرف آیت نمبر 80

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 81

سورة الزخرف آیت نمبر 81

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 82

سورة الزخرف آیت نمبر 82

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 83

سورة الزخرف آیت نمبر 83

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 84

سورة الزخرف آیت نمبر 84

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 85

سورة الزخرف آیت نمبر 85

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 86

سورة الزخرف آیت نمبر 86

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 87

سورة الزخرف آیت نمبر 87

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 88

سورة الزخرف آیت نمبر 88

سورة الزخرف Surah Az-Zukhruf Ayat No 89

سورة الزخرف آیت نمبر 89

Your Comments/Thoughts ?

Read & Listen Surah Az-Zukhruf with Urdu Translation سورة الزخرف - Download Surah Az-Zukhruf MP3 Audio Quran Online Free. Az-Zukhruf Urdu translation by Moulana Fateh Muhammad Jalandari. Read Surah Az-Zukhruf with Urdu translation, tilawat by Shaikh Abd-ur Rahman As-Sudais & Shaikh Su'ood As-Shuraim with Urdu translation text.

  • Surah No: 43
  • Az-Zukhruf
  • Arabic: سورة الزخرف
  • (سورة الزخرف) Az-Zukhruf Meaning in English: Ornaments of Gold
  • سورة الزخرف اردو میں
  • سورة الزخرف mp3
  • سورة الزخرف pdf

Read Quran Urdu Tarjuma with free download Holy Quran Urdu PDF. Moreover, you can also read and listen Quran Urdu tafseer by great Scholars at Darsaal. Quran Tilawat videos are also available here.